36689- "أيضا" عن إبراهيم بن عبد الرحمن قال: أغمي على عبد الرحمن بن عوف ثم أفاق فقال: إنه أتاني ملكان فظان غليظان فقالا لي: انطلق بنا نحاكمك إلى العزيز الأمين، فلقيهما ملك فقال لهما: أين تذهبان به؟ فقالا: نحاكمه إلى العزيز الأمين، قال: خليا عنه! فإنه ممن سبقت له السعادة وهو في بطن أمه. أبو نعيم، "كر".
٣٦٦٨٩۔۔۔ ابراہیم بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن (رض) پر بیہوشی طاری ہوئی اور پھر افاقہ ہوا اور فرمایا : میرے پاس تندخو سخت مزاج دو فرشتے آئے اور کہنے لگے : ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں غالب و امین کی عدالت میں فیصلے کے لیے لے چلتے ہیں تاہم ان دونوں سے ایک اور فرشتے کی ملاقات ہوئی اس نے ان سے پوچھا تم اسے لیے کہاں جا رہے ہو ؟ وہ بولے : ہم اسے غالب و امین کی عدالت میں فیصلہ کے لیے لے جا رہے ہیں وہ فرشتہ بولا : اسے چھوڑ دو چونکہ یہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھا کہ سعادت اس کا مقدر بن چکی تھی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)