hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36700

.

كنز العمال

36700
Kanz al-Ummal
36690- عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال سمعت أبي يقول: سافرت إلى اليمن قبل مبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسنة فنزلت على عسكلان بن عواكر الحميري وكان شيخا كبيرا قد أنسئ له في العمر حتى كاد كالفرخ، وكنت لا أزال إذا قدمت اليمن أنزل عليه فيسائلني عن مكة ويقول: هل ظهر فيكم رجل له نبا1 له ذكر؟ هل خالف أحد منكم عليكم في دينكم؟ فأقول: لا، حتى قدمت القدمة التي بعث فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: ألا أبشرك ببشارة وهي خير لك من التجارة؟ قلت: بلى،قال: إن الله بعث في الشهر الأول من قومك نبيا ارتضاه صفيا، وأنزل عليه كتابا وجعل له ثوابا، ينهى عن الأصنام ويدعو إلى الإسلام، يأمر بالحق ويفعله وينهى عن الباطل ويبطله، هو من بني هاشم وأنتم أخواله يا عبد الرحمن! أخف الوقعة وعجل الرجعة، ثم امض ووازره وصدقه واحمل إليه هذه الأبيات: أشهد بالله ذي المعالي ... وفالق الليل والصباح إنك في السرو1 من قريش ... يا ابن المفدى من الذباح أرسلت تدعو إلى يقين ... ترشد للحق والفلاح هد كرور السنين ركني ... عن بكر السير والرواح فصرت حلسا لأرض بيتي ... قد قص من قوتي جناحي إذا نأى بالديار بعد ... فإنت حرزي ومستراحي السرو: ومنه حديث أم زرع "فنكحت بعده سريا" أي نفيسا شريفا. وقيل: سخيا ذا مروءة، والجمع سراة بالفتح على غير قياس، وقد تضم السين، والاسم منه السرو. ومنه حديث عمر "أنه مر بالنخع فقال: أرى السرو فيكم مربعا" أي أرى الشرف فيكم متمكنا. وفي حديثه الآخر "لئن بقيت إلى قابل ليأتين الراعي بسرو حمير حقه لم يعرف جبينه فيه "السرو: ما انحدر من الجبل وارتفع عن الوادي في الأصل. النهاية 2/363. ب. أشهد بالله رب موسى ... أنك أرسلت بالنطاح فكن شفيعي إلى مليك ... يدعو البرايا إلى الفلاح قال عبد الرحمن: فحفظت الأبيات ورجعت فقدمت مكة فلقيت أبا بكر فأخبرته الخبر، فقال: هذا محمد بن عبد الله قد بعثه الله رسولا إلى خلقه فأته، فأتيته وهو في بيت خديجة فأستأذنت عليه، فلما رآني ضحك فقال: أرى وجها خليقا أرجو له خيرا، ما وراءك يا أبا محمد؟ قلت: وما ذاك يا محمد؟ قال: حملت إلي وديعة أو أرسلك إلي مرسل برسالته فهاتها، أما! إن أبناء حمير من خواص المؤمنين، قال عبد الرحمن: فأسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وأنشدته شعره وأخبرته بقوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رب مؤمن لي ولم يرني ومصدق بي وما شهدني، أولئك إخواني حقا. "كر".
٣٦٦٩٠۔۔۔ ” عبد الرحمن بن حمید بن عبد الرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے ایک سال قبل یمن کا سفر کیا اور میں عسکلا ن بن عواکر حمیری کے ہاں مہمان بنا عسکلان بہت بوڑھا ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے طویل عمر عطاء کی تھی حتیٰ کہ وہ چڑیا کے بچے جتنا ہوگیا تھا میں جب بھی یمن جاتا اسی کے ہی ٹھہرتا اور وہ مجھ سے اہل مکہ کی خبریں دریافت کرتا اور کہتا : کیا تمہارے درمیان کسی ایسے شخص کا ظہور ہوا ہے جو نئی خبر اور نئی بات لایا ہو کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے دین کے متعلق خوفزدہ تو نہیں ؟ میں نفی میں جواب دے دیتا۔ حتیٰ کہ میں اس بار یمن آیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوچکے تھے عسکلان نے مجھے کہا : کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں وہ تمہارے لیے تجارت سے بدرجہا افضل ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور سناؤ۔ وہ بولا : اللہ تعالیٰ نے پہلے مہینہ میں تمہاری قوم میں سے ایک نبی مبعوث کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لیے پسند فرمایا ہے ، اس پر کتاب نازل کی ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ کیا ہے وہ بتوں کی پرستش سے روکتا ہے اور اسلام کی دعوت دیتا ہے وہ حق کا حکم دیتا ہے اور حق بجا لاتا ہے باطل سے روکتا ہے اور باطل کو ختم کرتا ہے اے عبد الرحمن وہ بنی ہاشم میں سے ہے اور تم لوگ اس کے ماموں ہو، اس واقعہ کو مخفی رکھنا اور جلدی جلدی واپس جاؤ اور اس کا ہاتھ تھام لو اس کے دست راست بن جاؤ اس کی تصدیق کرو اور میری طرف سے اسے یہ اشعار پہنچاؤ۔
اشھد باللہ ذی المعالی وفالق اللیل والصباح
میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں جو عالیشان ہے جو رات اور دن کو پھاڑ کر لانے والا ہے۔
انک فی السرو من قریش یا ابن المفدی من الذباح
بلاشبہ تم قریش کے رئیس سخی اور شریف انسان ہوا اے ذبح کرکے فدا ہونے والے کے بیٹے۔
ارسلت تدعو الی یقین ترشد للحق والفلاح
تجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو یقین کی دعوت دیتا ہے حق و فلاح و کامیابی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
ھد کرور السنین رکنی عن بکر السیر والرواح
سالھا سال کی جنگوں کا خاتمہ ہوا جب کہ ہوا اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔
فصرت حلسا لارض بیتی قدقص من قوتی جناحی
میں اپنے گھر کے فرش کی چٹائی بن کے رہ گیا ہوں اور میرے باز و قوت ابو یوت سے قاصر ہوچکے ہیں۔
اذا نای بالدیار بعد فانت حرزی ومستراحی
جب گھروں میں کوئی دور کی خبر قریب ہوجائے گی تو ہی میری حفاظت اور سامان راحت ہوگا۔
اشھد با اللہ رب موسی انک ارسلت بالنطاح
میں اللہ تعالیٰ کو جو موسیٰ کا رب ہے گواہ بناتا ہوں یقیناً تجھے غالب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
فکن شفیعی الی ملیک یدعو البرایا الی الفلاح
لہٰذا رب تعالیٰ کے ہاں میرے سفارشی بن جاؤ اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو فلاح کی طرف بلاتا ہے۔
حضرت عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں میں نے اشعار یاد کرلیے اور مکہ واپس لوٹ آیا ابوبکر (رض) سے میری ملاقات ہوئی میں نے انھیں سارا واقعہ کہہ سنایا اور ابوبکر (رض) بولے : یہ ہیں محمد بن عبداللہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس جاؤ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ خدیجہ (رض) کے گھر میں تھے جب آپ نے مجھے دیکھا ہنسنے لگے اور فرمایا : میں کھلے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا ہوں اور اس کے لیے بھلائی کی امید کرتا ہوں تم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اے محمد ! بھلا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم میرے پاس ایک امانت لائے ہو یا بدست تمہارے میری طرف کسی نے پیغام بھیجا ہے وہ لاؤ، خبردار حمیر کے بیٹے خاص مومنین میں سے ہیں۔ عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں : میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور آپ کو مسکلان کے اشعار سنائے اور سارا واقعہ بھی سنایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت سارے لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں دیکھا اور بہت سارے لوگ میری تصدیق کرنے والے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں پایا یہ میرے سچے بھائی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)