36698- عن النزال بن سبرة قال: وافقنا من علي بن أبي طالب ذات يوم طيب نفس فقلنا: يا أمير المؤمنين حدثنا عن أصحابك، قال: كل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابي، قلنا: حدثنا عن أصحابك خاصة، فقال ما كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم صاحب إلا كان لي صاحبا، قلنا: حدثنا عن أبي بكر الصديق: قال: ذاك امرؤ سماه الله صديقا على لسان جبريل ومحمد صلى الله عليه وسلم، كان خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم رضيه لديننا فرضيناه لدنيانا، قلنا: فحدثنا عن عمر بن الخطاب، قال: ذاك امرؤ سماه الله الفاروق ففرق بين الحق والباطل، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب، قلنا: فحدثنا عن عثمان بن عفان، قال: ذاك امرؤ يدعى في الملأ الأعلى "ذا النورين" كان ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنتيه، ضمن له بيتا في الجنة."خيثمة واللالكائي والعشاري في فضائل الصديق، كر".
٣٦٦٩٨۔۔۔ نزال بن سبرہ کی روایت ہے ایک دن ہم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو خوش خوش پایا ہم نے عرض کیا : اے امیر المومنین ہمیں اپنے اصحاب کے متعلق کچھ بتلائیے آپ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر صحابی میرا دوست ہے ہم نے کہا آپ ہمیں ابوبکر (رض) کے متعلق بتلائیں فرمایا : ابوبکر (رض) ایسے شخص تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے صدیق کہلوایا ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ تھے اللہ نے انھیں ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا اور ہم نے انھیں اپنی دنیا کے لیے پسند کیا : ہم نے عرض کیا : آپ ہمیں عمر بن خطاب (رض) کے متعلق بتلائیں آپ (رض) بولے : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : یا اللہ ! اسلام کو عمر بن خطاب (رض) کے ذریعے عزت عطا فرما۔ ہم نے کہا : آپ ہمیں عثمان بن عفان (رض) کے متعلق بتائیں : فرمایا اس شخص کو آسمانوں میں ” ذوالنورین “ کے نام سے پکارا جاتا ہے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہوئی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جنت کی ضمانت دی ہوئی تھی۔ (رواہ خیثمۃ واللالکانی والعشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر)