36701- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا أول من تنشق الأرض عنه ولا فخر! فيعطيني الله من الكرامة ما لم يعطني قبل! ثم ينادى مناد: يا محمد! قرب الخلفاء، فأقول: ومن الخلفاء؟ فيقول جل جلاله: عبد الله أبو بكر الصديق، فأول من تنشق الأرض عنه بعدي أبو بكر، ويقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ويكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش، ثم ينادي مناد: أين عمر بن الخطاب؟ فيجيء وأوداجه تشخب دما فأقول: عمر! من فعل هذا بك؟ فيقول: مولى المغيرة بن شعبة، فيوقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش؛ ثم يؤتى بعثمان بن عفان وأوداجه دما فأقول: عثمان! من فعل بك هذا؟ فيقول: فلان وفلان، فيوقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش؛ ثم يؤتى بعلي وأوداجه تشخب دما فأقول: علي! من فعل بك هذا؟ فيقول: عبد الرحمن بن ملجم، فيوقف
بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش مع أصحابه.الزوزني وفيه علي بن صالح، قال الذهبي: لا يعرف وله خبر باطل، وقال في اللسان ذكره "حب" في الثقات وقال: روى عنه أهل العراق، مستقيم الحديث.
٣٦٧٠١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے زمین مجھ سے ہٹے گی اور اس میں فخر نہیں : اللہ تعالیٰ مجھے ایسی کرامت و عزت عطاء فرمائے گا جو مجھے پہلے نہیں عطاء کی گئی پھر ایک منادی آواز لگائے گا : اے محمد ! اپنے خلفاء کو قریب لاؤ میں کہوں گا خلفاء کون ہیں اللہ جل جلالہ فرمائے گا عبداللہ ابوبکر صدیق چنانچہ میرے بعد ابوبکر (رض) پہلے شخص ہوں گے جن سے زمین ہٹے گی ابوبکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کا معمولی سا حساب ہوگا پھر انھیں سبز رنگ کے دو جوڑے پہنچا دئیے جائیں گے پھر انھیں فرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا منادی ایک بار پھر آواز لگائے گا کہاں ہیں عمر بن خطاب (رض) ؟ چنانچہ عمر بن خطاب (رض) آئیں گے اور ان کی رگوں سے خون رس رہا ہوگا میں پوچھوں گا : اے عمر تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : مغیرہ بن شعبہ کے غلام کے انھیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور ان کا بھی تھوڑا سا حساب ہوگا پھر انھیں دو سبز رنگ کے جوڑے پہنا دئیے جائیں گے پھر انھیں بھی عرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا پھر حضرت علی (رض) لائے جائیں گے ان کے رگوں سے بھی خون رس رہا ہوں گا میں کہوں گا اے علی ! تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے : عبد الرحمن بن ملجم نے۔ انھیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ان کا بھی تھوڑا سا حساب ہوگا پھر انھیں دو سبز جوڑے پہنا دئیے جائیں گے پھر انھیں عرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا۔ (رواہ الزوزنی وفیہ علی بن صالح وقال الذھبی : لا یعرف ولہ خبر باطل وقال فی اللسان ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال روی عنہ اھل العراق مستقیم الحدیث)