hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36716

.

كنز العمال

36716
Kanz al-Ummal
36706- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أسري بي إلى السماء السابعة قال لي جبريل: تقدم يا محمد! فوالله ما نال هذه الكرامة ملك مقرب ولا نبي مرسل! فأوحى إلي ربي شيئا، فلما أن رجعت نادى مناد من وراء حجاب: نعم الأب أبوك إبراهيم! ونعم الأخ أخوك علي! فاستوص به خيرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا جبريل! أخبر قريشا أني زرت ربي؟ قال: نعم، قال: تكذبني قريش، قال جبريل: كلا! فيهم أبو بكر وهو مكتوب عند الله الصديق وهو يصدقك، يا محمد! أقرئ عمر مني السلام. "ق في فضائل الصحابي وابن الجوزي في الواهيات وقال: لا يصح، فيه مسلم بن خالد الزنجي، قال ابن المديني: ليس بشيء، قلت: هو الفقيه المشهور الإمام الشافع ضعفه "خ، د" وأبو حاتم، وقال الساجي: كثير الغلط، وقال ابن معين: ليس به بأس، وقال مرة ثقة، وقال مرة: ضعيف، وقال "عد": أرجو أنه لا بأس به، هو حسن الحديث".
٣٦٧٠٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں اسراء کے موقع پر ساتویں آسمان پر پہنچا مجھے جبرائیل امین نے کہا : اے محمد ! آگے ہوجائیں اللہ کی قسم یہ عزت و شرف نہ کسی نبی مرسل کو میرے رب تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی جب میں واپس لوٹا پردے کے پیچھے سے کسی منادی نے آواز لگائی : سب سے اچھا باپ تمہارا باپ ابراہیم ہے اور سب سے اچھا بھائی تمہارا بھائی علی ہے لہٰذا اس سے بھلائی کا معاملہ کرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل : کیا میں قریش کے خبر دے دوں کہ میں نے رب تعالیٰ سے ملاقات کی ہے فرمایا : جی ہاں آپ نے فرمایا : قریش تو میری تکذیب کردیں گے جبرائیل امین نے اس پر کہا : ہرگز نہیں چونکہ ان میں ابوبکر صدیق بھی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاں صدیق کے لقب سے لکھا ہے وہ تمہاری تصدیق کرے گا۔ اے محمد ! میری طرف سے عمر کو سلام کہنا۔ (رواہ البیہقی فی فضائل الصحابی وابن الجوزی فی الواھیات وقال لایصح۔ چونکہ اس حدیث کی سند میں مسلم بن خالد رنحی ہے : ابن المدینی کہتے ہیں گولیس بشئ مصہ کہتے ہیں : وہ وہ شافعی مذہب کا مشہور امام ہے امام بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابو حاتم نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے سابی کہتے ہیں : اس کی اکثر روایات غلط ہیں جب کہ ابن معین کہتے ہیں : لیس بہ باس ابن معین نے بسا اوقات اسے ثقہ اور کبھی ضعیف کہا ہے ابن عدی کہتے ہیں اس کی روایات لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ حدیث حسن کا راوی ہے)