36759 عن علي قال : أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا محمد ! إن الله يحب من أصحابك ثلاثة فأحبهم : علي بن أبي طالب وأبو ذر والمقداد ، قال : وأتاه جبريل فقال : يا محمد ! إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك ، وعنده أنس بن مالك فرجا أن يكون لبعض الانصار ، فأراد أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهم فهابه ، فخرج فلقي أبا بكر فقال : يا أبا بكر ! إني كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا فأتاه جبريل فقال : إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك ، فرجوت أن يكون لبعض الانصار فهبت أن أسأله فهل لك أن تدخل فتسأله ؟ فقال : إني أخاف أن أسأله فلا أكون منهم فيشمت بي قومي ، ثم أتى عمر بن الخطاب فقال له مثل قول أبي بكر ، فلقي عليا فقال له علي : نعم أنا أسأله فان أكن منهم فأحمد الله وإن لم أكن منهم حمدت الله ، فدخل على نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال : إن أنسا حدثني أنه كان عندك آنفا وأن جبريل أتاك فقال : إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك : فقال : فمن هم يا نبي اله ؟ قال : أنت منهم يا علي وعمار ابن ياسر وسيشهد معك مشاهد بين فضلها عظيم خيرها وسلمان وهو منا أهل البيت وهو ناصح فاتخذه لنفسك (ع وفيه النضر بن حميد عن سعد بن طريف الاسكاف وهما ضعيفان).
٣٦٧٥٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ تیرے صحابہ (رض) میں سے تین سے محبت کرتا ہے تم بھی ان سے محبت کرو وہ علی ابن ابی طالب ابو ذر اور مقداد ہیں۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : ایک بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد تیرے صحابہ (رض) میں سے تین کی جنت زیادہ مشتاق ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت انس (رض) بھی تھے وہ امیدیں کرنے لگے کہ یہ فضیلت انصار میں سے بھی کسی کو حاصل ہو ارادہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے متعلق دریافت کریں لیکن مارے ہیبت کے سوال نہ کیا حضرت انس (رض) باہر نکل آئے اور حضرت ابوبکر (رض) سے ملاقات ہوئی ان سے کہا : اے ابوبکر (رض) میں ابھی ابھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ اتنے میں جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہنے لگے : تیرے صحابہ میں سے تین کے لیے جنت مشتاق ہے میں نے امید کی کہ یہ فضیلت کسی انصاری کے حصہ میں بھی آئے لیکن مارے ہیبت کے میں نے سوال نہیں کیا : کیا آپ جائیں گے تاکہ سوال کرلیں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : میں سوال کرنے سے ڈرتا ہوں کہ میں ان میں سے نہ ہوں اور پھر میری قوم مجھ پر خوشیاں کرنے لگے پھر انس (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور ان سے کہا : انھوں نے بھی ابوبکر (رض) کی طرح انکار کردیا پھر حضرت علی (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی حضرت علی (رض) نے حامی بھرلی کہ میں پوچھتا ہوں اگر میں ان میں سے ہوا تو اس پر اللہ کی حمد کرتا ہوں اگر نہ ہوا تو بھی اللہ کی حمد کروں گا۔ علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : جنت آپ کے صحابہ میں سے تین کی زیادہ مشتاق ہے یا نبی اللہ وہ کون ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی تم انہی میں سے ہو ایک عمار بن یاسر ہے وہ جنگوں میں تمہارے ساتھ حاضر رہے گا ان جنگوں کی فضیلت واضح ہے اور ان کی بھلائی عظیم تر ہے اور ایک سلمان ہے اور وہ ہم اہل بیت میں سے ہے وہ خیر خواہ ہے اسے اپنا دست راست بنا لو۔ (رواہ ابو یعلی وفیہ نضر بن حمید عن بن طریق الاسکاف وھما ضعیفان)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ ٢٣٢٨۔