hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36773

.

كنز العمال

36773
Kanz al-Ummal
36763- عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: سمعت بجالة التميمي قال: وجد عمر بن الخطاب مصحفا في حجر غلام في المسجد فيه: النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وهو أبوهم، فقال: احككها يا غلام! فقال: والله لا أحكها وهي في مصحف أبي بن كعب! فانطلقا إلى أبي فقال له أبي: شغلني القرآن وشغلك الصفق بالأسواق إذ تعرض رداءك على عنقك بباب ابن العجماء، قال: ولم يكن عمر يريد أن يأخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها من مجوس هجر، قال: وكتب عمر بن الخطاب إلى جزء بن معاوية عم الأحنف بن قيس وكان عاملا لعمر قبل موته بسنة: اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانههم عن الزمزمة، قال: وما شأن أبي بستان فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لجندب: جندب وما جندب! يضرب ضربة يفرق بها بين الحق والباطل، فإذا أبو بستان يلعب في أسفل الحصن عند الوليد بن عقبة وهو أمير الكوفة والناس يحسبون أنه على سور القصر فقال جندب: ويلكم أيها الناس! إنما يلعب بكم والله إنه لفي أسفل القصر! ثم انطلق فاشتمل على سيفه فضربه. "عب".
٣٦٧٦٣۔۔۔ ابن جریج عمر بن دینار سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نجالہ تمیمی کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مسجد میں ایک لڑکا پایا اس نے اپنی گود میں ایک صحیفہ کھول رکھا تھا جس میں لکھا تھا : نبی مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے اور وہ مومنین کا باپ ہوتا ہے عمر (رض) نے فرمایا : مٹادو لڑکا بولا : بخدا ! میں نہیں مٹاؤں گا چونکہ یہ ابی بن کعب کے مصحف میں ہے دونوں اٹھے اور حضرت ابی بن کعب کے پاس چلے گئے ابی (رض) نے کہا : میں قرآن میں مشغول رہتا تھا جب کہ آپ بازاروں میں خریدو فروخت میں مشغول رہتے تھے جب کہ آپ کی چادر جو آپ کے کاندھے پر ہوتی تھی اور ابن عجماء کے دروازے کے ساتھ اٹک جاتی تھی عمرو بن دینار کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) مجوسیوں سے جزیہ نہیں لینا چاہتے تھے حتیٰ کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا عمرو بن دینار کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) بن خطاب کے حضرت جزء بن معاویہ (رض) احنف بن قیس کے چچا کو خط لکھا وہ عمر (رض) کی وفات سے ایک سال قبل کسی جگہ کے گورنر تھے لکھا کہ جادو گر کو قتل کر اور مجوسیوں کو رمن کے رشتہ سے ردکرو اور انھیں آگ جلانے سے منع کرو۔ فرمایا : ابو بستان کا کیا حال ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جندب سے فرمایا : جندب اور جندب کیا ہے وہ ایک وار کرتا ہے جس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے یکایک ابو بستان قلعہ کے نچلے حصہ میں ولید بن عقبہ کے پاس کھیل رہے ہیں اور وہ کوفہ کے امیر تھے جبکہ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ محل کی فصیل پر ہیں اس پر جندب (رض) نے فرمایا : اے لوگو تمہاری ہلاکت کھیل تو تمہارے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ تو محل کے نچے حصہ میں ہے پھر چل پڑے اپنی تلوار لی اور اسے مار دیا۔ (رواہ عبد الرزاق)