hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36772

.

كنز العمال

36772
Kanz al-Ummal
36762-"مسند عمر" عن مالك بن أوس أن عمر بن الخطاب أخذ أربعمائة دينار فجعلها في صرة ثم قال للغلام اذهب بها إلى أبي عبيدة بن الجراح ثم تله ساعة في البيت حتى تنظر ما يصنع، فذهب بها الغلام إليه فقال: يقول لك أمير المؤمنين: اجعل هذه في بعض حوائجك، فقال: وصله الله ورحمه، ثم قال: تعالي يا جارية! اذهبي بهذه السبعة إلى فلان وبهذه الخمسة إلى فلان - حتى أنفدها، فرجع الغلام إلى عمر فأخبره ووجده قد أعد مثلها لمعاذ بن جبل، فقال: اذهب بها إلى معاذ بن جبل وتله في البيت ساعة حتى تنظر ما يصنع، فذهب بها إليه فقال: يقول لك أمير المؤمنين: اجعل هذه في بعض حاجاتك، فقال: وصله الله ورحمه! تعالي يا جارية اذهبي إلى فلان بكذا أو إلى بيت فلان بكذا، فاطلعت امرأة معاذ فقالت: ونحن والله مساكين! فأعطنا ولم يبق في الخرقة إلا ديناران، فجاء بهما إليها: فرجع الغلام فأخبره، فسر بذلك عمر وقال: إنهم إخوة بعضهم من بعض."ابن المبارك".
٣٦٧٦٢۔۔۔ ” مسند عمر “ مالک بن اوس کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے چار سو دینار لیے اور ایک تھیلی میں ڈال کر غلام سے کہا : یہ ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس لے جاؤ پھر تم تھوڑی دیر گھر ہی میں ٹھہرو اور دیکھو کہ وہ کیا کریں گے چنانچہ غلام ابو عبیدہ (رض) کے پاس گیا اور کہا : امیر المومنین کہتے ہیں کہ یہ اپنے کام میں صرف کرلو۔ ابو عبیدہ (رض) بولے : اللہ تعالیٰ امیر المومنین پر رحم فرمائے پھر بولے : اے لڑکی یہ سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ حتیٰ کہ اسی طرح سب ختم کر دئیے غلام عمر (رض) کے پاس واپس لوٹ آیا اور انھیں خبر دی غلام نے عمر (رض) کو اس حال میں پایا کہ انھوں نے اسی طرح حضرت معاذ بن جبل (رض) کے لیے بھی دینار تھیلی میں ڈال کر تیار کر رکھے تھے فرمایا اے غلام یہ معاذ بن جبل کے پاس لے جاؤ اور تھوڑی دیر گھر میں ٹھہرو دیکھو کہ وہ کیا کریں گے چنانچہ غلام دینار لے کر حضرت معاذ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ یہ دینار اپنی ضرورت میں صرف کریں یہ امیر المومنین نے بھیجے ہیں۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ امیر المومنین پر رحم فرمائے اے لڑکی یہ لے جاؤ فلاں کے پاس یا فرمایا فلاں کے گھر میں کچھ دیر بعد معاذ (رض) کی بیوی نمودار ہوئی اور کہا : بخدا ! ہم مسکین لوگ ہیں ہمیں بھی کچھ دی جائیے چنانچہ تھیلی میں صرف دو دینار بچے تھے معاذ (رض) وہ لے کر اپنی بیوی کے پاس چلے گئے غلام واپس لوٹ آیا اور عمر (رض) کو ساری خبر سنائی عمر (رض) سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : بلاشبہ یہ صحابہ (رض) آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک قسم کی عادات کے حاملین ہیں۔ (رواہ ابن المبارک)