hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36836

.

كنز العمال

36836
Kanz al-Ummal
36826- عن الحصين بن عبد الرحمن بن عمرو بن معاذ عن أبي سفيان مولى ابن أبي أحمد أن أبا هريرة كان يقول: حدثوني عن رجل دخل الجنة لم يصل قط صلاة، فإذا لم يعرفه الناس فسألوه من هو؟ فيقول: أصيرم بن الأشهل عمرو بن ثابت بن وقش، قال الحصين: فقلت لمحمود بن لبيد: كيف كان شأن الأصيرم؟ قال: كان يأبى الإسلام على قومه فلما كان يوم أحد وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بدا له الإسلام فأسلم ثم أخذ سيفه فغدا حتى أتى القوم فدخل في عرض الناس فقاتل حتى أثبته الجراح، فبينا رجال بني عبد الأشهل يلتمسون قتلاهم في المعرك إذا هم به، فقالوا: إن هذا أصيرم! ما جاء به؟ لقد تركناه وإنه لمنكر لهذا الحديث، فسألوه ما جاء به فقالوا له: ما جاء بك يا عمرو؟ أحدبا1 على قومك أم رغبة في الإسلام؟ فقال: بل رغبة في الإسلام، فآمنت بالله ورسوله وأسلمت وأخذت سيفي فقاتلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أصابني ما أصابني؛ ثم لم يلبث أن مات في أيديهم، فذكروه لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنه لمن أهل الجنة. "ابن إسحاق وأبو نعيم في المعرفة".
٣٦٨٢٦۔۔۔ حصین بن عبد الرحمن بن عمرو بن معاذ، ابو سفیان مولائے ابن ابی احمد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرمایا کرتے تھے : مجھے اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو جنت میں داخل ہوگیا اور اس نے کبھی نماز نہیں پڑھی ؟ لوگ جب پہچان نہ کر پاتے پوچھتے کہ وہ کون ہے ؟ آپ (رض) کہتے وہ اصیرم بن اشھل عمرو بن ثابت بن وقش (رض) ہیں، حصین کہتے ہیں : میں نے محمود بن لبید سے پوچھا اصیرم کے حالات کا کیا قصہ ہے ؟ انھوں نے کہا : اصیرم اپنی قوم کے سامنے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے چنانچہ غزوہ احد کے موقع پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے باہر تشریف لائے اصیرم (رض) پر اسلام کی حقانیت واضح ہوگئی اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا پھر اپنی تلوار اٹھائی اور چل پڑے اپنی قوم کے پاس آئے اور لوگوں میں گھس گئے لڑنا شروع کردیا دوران جنگ آپ (رض) کو کاری ضرب لگی اسی اثناء میں بنی عبد الاشھل کے لوگ اپنے مقتولین کو میدان جنگ میں تلاش کر رہے تھے کہ وہ یکایک اصیرم (رض) کے پاس جا پہنچے لوگوں نے کہا یہ تو اصیرم ہے یہ جنگ میں کیسے آگیا ؟ ہم تو اسے گھر چھوڑ کر آئے تھے اور وہ اسلام کا انکار کرتا تھا لوگوں نے اصیرم (رض) سے پوچھا تم کیسے آئے ہو ؟ اے عمرو تمہیں کونسی چیز یہاں لائی ہے ؟ محض اپنی قوم کا ساتھ دینے آئے ہو یا اسلام کی طرف رغبت ہوگئی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : بلکہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہوئی ہے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لے آیا ہو میں نے اسلام قبول کرلیا ہے میں نے اپنی تلوارلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں لڑنا شروع کردیا حتیٰ کہ مجھے کاری زخم آیا چنانچہ اس کے بعد آپ (رض) تھوڑی ہی دیر میں لوگوں کے ہاتھوں میں جان جان آفریں کے سپرد کردی ، صحابہ کرام (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا : بلاشبہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ (رواہ ابن اسحاق وابو نعیم فی المعرفۃ)