36844- "مسند أنس بن مالك" غاب عمي أنس بن النضر عن قتال بدر فلما قدم قال: غبت عن أول قتال قاتل رسول الله صلى الله عليه وسلم المشركين، لئن أشهدني الله قتالا ليرين الله ما أصنع! فلما كان يوم أحد انكشف الناس فقال: اللهم! إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء - يعني المشركين - وأعتذر إليك مما صنع هؤلاء - يعني المسلمين - ثم مشى بسيفه فلقيه سعد بن معاذ فقال: أي سعد! والذي نفسي بيده إني لأجد ريح الجنة دون أحد! واها لريح الجنة! قال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع! قال أنس:
فوجدناه بين القتلى، به بضع وثمانون من بين ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم قد مثلوا به فما عرفناه حتى عرفته أخته ببنانه؛ قال أنس: فكنا نقول: أنزلت هذه الآية {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه} أنها فيه وفي أصحابه. "ط" وابن سعد، "ش" والحارث، "ت" وقال: صحيح1، "ن" وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم".
٣٦٨٤٤۔۔۔ ” مسند انس بن مالک “ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں میرے چچا انس بن نضر (رض) بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوسکتے تھے انھیں اس کا شدید صدمہ رہتا تھا اور اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے جب آپ مدینہ واپس آئے کہنے لگے میں پہلی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کو تہ تیغ کیا ہے اگر آئندہ میں کسی لڑائی میں شریک ہوا اللہ تعالیٰ ضرور دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں چنانچہ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انس بن نضر (رض) کہنے لگے : یا اللہ جو کچھ یہ مشرکین لائے ہیں میں اس سے بری الذمہ ہوں اور جو کچھ مسلمانوں نے کیا ہے میں اس سے تیرے حضور معذرت کرتا ہوں پھر اپنی تلوار لی اور میدان کا رزار کی طرف چل پڑے سامنے سے ایک دوسرے صحابی حضرت ابن معاذ (رض) آرہے ہیں ان سے کہا : اے سعد ! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے احد کے پہاڑ سے جنت کی خوشبو آرہی ہے وہ مجھے جنت کی خوشبو لگتی ہے پھر آپ (رض) بھرپور حملہ کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ سعد (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جو کچھ انس بن نضر نے کیا ہے جو کچھ کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں تھی حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں ہم نے انس بن نضر (رض) کو مقتولین میں پایا ان پر تلواروں نیزوں اور تیروں سے اسی (٨٠) سے زائد زخم تھے اور ان کی لاش کا مثلہ کردیا گیا تھا ہم انھیں نہیں پہچان سکے تھے حتیٰ کہ ان کی بہن نے انھیں انگلیوں سے پوروں نے پہچانا۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : ہم کہا کرتے تھے۔ یہ آیت ” من المومنین رجال صدقوا ما عاھد وا اللہ علیہ “ انس بن نضر اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن سعد وابن ابی شیبہ والحارث والترمذی وقال صحیح والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مردویۃ وابو نعیم)