36845- عن سهل بن الحنظلية العبشمي أنهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يحرسنا الليلة؟ فقال أنس بن أبي مرثد الغنوي: أنا يا رسول! فقال: اركب، فركب فرسا فجاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: استقبل هذا الشعب حتى تكون في أعلاه ولا تغرر من قبلك الليلة فلما صبح خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مصلاه فصلى ركعتين ثم قال: هل أحسستم فارسكم؟ فقال رجل: يا رسول الله! ما أحسسناه، فثوب بالصلاة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة يلتفت إلي الشعب حتى إذا قضى صلاته وسلم قال: أبشروا فقد جاء فارسكم، فجعلنا ننظر إلى ظلال الشجر في الشعب فإذا هو قد جاء حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني قد انطلقت حتى كنت في أعلى هذا الشعب حيث أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبحت طلعت الشمس فنظرت فلم أر أحدا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: نزلت الليلة؟ قال: لا إلا مصليا أو قاضي حاجة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقد أوجبت فلا عليك أن لا تعمل غيرها.
"أبو نعيم في المعرفة
٣٦٨٤٥۔۔۔ حضرت سہل بن حنظلیہ عیشمی (رض) کہتے ہیں صحابہ کرام (رض) اجمعین رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کے دن چلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا حضرت انس بن ابی مرثد غنوی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں پہرہ دوں گا حکم ہوا : گھوڑے پر سوار ہوجاؤ چنانچہ انس (رض) بن ابی مرثر گھوڑے پر سوار ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس گھاءی کے اوپر چلے جاؤ اور اپنی طرف سے دھوکا میں نہیں رہنا صبح ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جائے نماز پر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں پھر فرمایا : کیا تم نے اپنے شہسوار کو محسوس کیا ہے ؟ ایک شخص بولا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے محسوس نہیں کیا نماز کے لیے اقامت کہی گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تھے اور آپ نے گھاٹی کی طرف دیکھنا شروع کردیا حتیٰ کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے اور سلام پھیرا، ارشاد فرمایا : خوش ہوجاؤ تمہارے گھڑ سوار آچکے ہیں ہم گھاٹی میں درختوں کے سائے تلے دیکھنے لگے چنانچہ وہ سامنے سے آرہے تھے اور آتے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : میں آپ کے پاس سے چل کر گھاٹی کے اوپر پہنچ گیا جہاں کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا صبح کو جب سورج طلوع ہوا میں نے دائیں بائیں دیکھا مجھے کوئی نہ دکھائی دیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : کیا تم رات کو نیچے اترے تھے ؟ عرض کیا : نہیں البتہ نماز کے لیے اور قضائے حاجت کے لیے نیچے آیا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اپنے اوپر جنت واجب کردی اب تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ اس کے بعد کوئی عمل بھی نہ کرو۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)