36956- عن عائشة قالت: مشت الأنصار إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! إن قومك قد تناولوا منا فإن أذنت لنا أن نرد عليهم فعلنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أكره أن تنتصروا ممن ظلمكم وعليكم بابن رواحة فإنه أعلم القوم بهم، فمشوا إلى عبد الله بن رواحة فقالوا: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش فقل، فقال عبد الله بن رواحة في ذلك شعرا فلم يبلغ ذلك منهم الذي أرادوا، فأتوا كعب بن مالك فقالوا: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش، فقال: كعب بن مالك في ذلك شعرا هو أمتن من شعر عبد الله بن رواحة فلم يبلغ منهم الذي أرادوا، فأتوا حسان بن ثابت فقالوا له: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش فقل، فقال حسان: لست فاعلا حتى أسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فانطلق معهم حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! أنت أذنت لهؤلاء؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أكره أن ينتصروا ممن ظلمهم، وأنت يا حسان لم تزل مؤيدا بروح القدس ما نافحت - وفي لفظ: ما كافحت - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "الذهلي في الزهريات كر".
٣٦٩٥٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ انصار کی ایک جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کی قوم نے ہماری مذمت میں (ہجو میں) اشعار کہے ہیں، اگر آپ بھی ہمیں اجازت مرحمت فرمائیں ہم بھی انھیں جواب دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ بات بری نہیں لگتی کہ تم ایسے لوگوں سے بدلہ لو جنہوں نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے ابن رواحہ کے پاس تمہیں جانا چاہیے چونکہ وہ نسب دانی کا علم رکھتا ہے چنانچہ انصار حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے پاس گئے اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم (بھی اشعار کہہ کہ) قریش سے بدلہ لیں لہٰذا قریش کی ہجو میں اشعار کہو۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اشعار کہے لیکن پر از ہجونہ کہے جو کہ انصار چاہتے تھے انصار کعب بن مالک (رض) کے پاس آئے اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم قریش سے بدلہ لیں چنانچہ کعب بن مالک (رض) نے بھی اشعار کہے جو ہجو میں ابن رواحہ (رض) کے اشعار سے قدرے بڑھے ہوئے تھے لیکن انصار کا مقصد یہاں بھی پورا نہ ہوا پھر یہ لوگ حضرت حسان بن ثابت (رض) کے پاس آئے ان سے یہی فرمائش کی حضرت حسان (رض) نے کہا : میں اس وقت تک اشعار نہیں کہوں گا جب تک میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل نہ لوں۔ چنانچہ حسان (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو واقعہ کی اجازت دی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں برا نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ ظالموں سے بدلہ لیں اے حسان مسلسل تمہاری تائید جبرائیل امین کرتے رہیں گے جب تک تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا (اشعار کے ذریعے) دفاع کرتے رہو گے (رواہ الذھلی فی الدھریات وابن عساکر)