36957- "مسند عائشة" حدثنا محمد بن عوف الطائي حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا ابن أبي ذئب حدثنا محمد بن عمر بن عطاء عن ذكوان عن يمان عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل، فأرسل إلى ابن رواحة فقال: اهجهم، فهجاهم فلم يرض، فأرسل إلى كعب بن مالك، ثم أرسل إلى حسان بن ثابت، فلما دخل عليه حسان قال: قد آن لكم أن ترسلوا إلى هذا الأسد الضارب بذنبه ثم أدلع لسانه فجعل يخرجه فقال: والذي بعثك بالحق! لأفرينهم بلساني فري1 الأديم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تعجل فإن أبا بكر أعلم قريش بأنسابها وإن لي فيهم نسبا حتى يخلص نسبي، فأتاه حسان ثم رجع فقال: يا رسول الله! قد خلصت نسبك والذي بعثك بالحق لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين! قالت عائشة: فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان: إن روح القدس لا يزال مؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله، وقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هجاهم فشفى واشتفى. "ابن جرير وأبو نعيم".
٣٦٩٥٧۔۔۔ ” مسند عائشہ “ محمد بن عوف طائی آدم بن ابی ابس ابن ابی ذئب محمد بن عرف عطاز کو ان یمان کی سند سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش کی ہجو کرو۔ چونکہ ہجو کے اشعار قریش پر تیروں کی بارش سے بھی زیادہ سخت ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن رواحہ (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ قریش کی ہجو کرو ابن رواحہ (رض) نے اشعار کہے لیکن آپ (رض) اس سے راضی نہ ہوئے آپ نے کعب بن مالک (رض) کو پیغام بھیجا پھر ان کے بعد حسان بن ثابت (رض) کو پیغام بھیجا جب آپ کے پاس حضرت حسان (رض) داخل ہوئے عرض کیا : اب وقت آچکا ہے کہ تم اس بپھرے ہوئے شیر کو پیغام بھیجو جو اپنی دم سے حملہ کرے گا پھر اپنی زبان گھما کر کہا قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں ان لوگوں کو اپنی زبان سے ایسا کاٹوں گا کہ حق ادا کردوں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جلدی نہ کرو یقیناً ابوبکر قریش کے سب سے بڑے نسب دان ہیں اور میرا سلسلہ نسب بھی قریش میں ہے اور مجھے ان سے الگ تھلگ رکھا ہے حسان (رض) ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور نسب دانی کا ضروری علم لے کر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کا نسب الگ کردیا ہے قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں آپ کو قریش سے اس طرح نکالوں گا جس طرح بال آٹے سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : جبرائیل امین تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں جبتک تم اللہ اور اللہ کے رسول کا دفاع کرتے رہتے ہو۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ (اے حسان) مشرکین کی ہجو کرو حضرت حسان (رض) نے خوب ہجو کی (رواہ ابن جریروابو نعیم)