37020- عن الشعبي قال: اصطرع عمر بن الخطاب وخالد بن الوليد وهما غلامان وكان خالد ابن خال عمر فكسر خالد ساق عمر فعرجت وجبرت، فكان ذلك سبب العداوة بينهما. "كر".
٣٧٠٢٠۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت خالد بن ولید (رض) نے لڑکپن میں آپس میں کشتی لڑی۔ خالد (رض) حضرت عمر (رض) کے ماموں زاد بھائی تھے چنانچہ خالد (رض) کی پنڈلی توڑدی جس کی وجہ سے ٹانگ میں لنگڑا پن پیدا ہوگیا تھا اور بعد میں ہڈی درست ہوجانے پر لنگڑاپن جاتا رہا چنانچہ حضرات کے درمیان عداوت کا یہی سبب تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے حتیٰ کہ موضوع تک اسے کہا گیا ہے ابن جوزی نے اسے واھیات میں شمار کیا ہے اگر حدیث کی صحت تسلیم کرلی جائے تو حضرت عمر (رض) کی ذات گرامی جاہلیت کے دور کا اسلام میں انتقام لینے کی اجازت نہیں دیتی سو کہاں عمر اور کہاں ذاتی انتقام ۔ علی سبیل التسلیم : سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنی خلافت کے پانچ سال بعد حضرت خالد (رض) کو کیوں معزول کیا ؟ اگر انتقام ہی لینا تھا تو خلافت کے ملتے ہی انھیں معزول کردیتے اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت فتوحات کی ابتداء تھی اور حضرت خالد کی ضرورت تھی جناب والا ! یہ اپنی طرف سے چاڈماری ہے چونکہ حضرت عمر (رض) کی دور میں قلت رجال نہیں تھی ابوعبیدہ بن الجراح (رض) تھے معاذ بن جبل (رض) تھے عکرمہ بن ابی جہل (رض) تھے عمروبن معدیکرب (رض) تھے۔ (ازمترجم)