37021- عن عمرو بن العاص قال: خرجت عامدا لرسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيت خالد بن الوليد وذلك قبل الفتح وهو مقبل من مكة فقلت: أين يا أبا سليمان؟ قال: والله لقد استقام الميسم1 وإن الرجل لنبي، أذهب والله أسلم! فحتى متى؟ فقلت: وأنا والله ما جئت إلا لأسلم! فقدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم خالد بن الوليد فأسلم وبايع، ثم دنوت فبايعته ثم انصرفت. "كر".
٣٧٠٢١۔۔۔ حضرت عمروبن العاص (رض) کہتے ہیں : میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربارگوہریاب میں سرخرو ہونے کے لیے نکل بڑا میری ملاقات خالدبن ولد سے ہوگئی یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے خالد (رض) بھی مکہ سے آرہے تھے میں نے کہا : اے ابوسلمان ! کہاں کا رادہ ہے ؟ خالد (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! حق کا نشان لگنے والا ہے بلاشبہ یہ شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نبی ہے اللہ کی قسم میں اسلام قبول کرنے چلاہوں خالد (رض) نے پوچھا : تمہارا کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم میں بھی صرف اسلام قبول کرنے کی عرض سے چلاہوں۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے خالد (رض) مجھ سے آگے بڑھ گئے اسلام قبول کیا اور دست اقدس پر بیعت کی پھر میں قریب ہوا بیعت کی اور پھر میں واپس لوٹ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)