37029- عن عثمان بن محمد الأخنسي قال: استعمل عمر بن الخطاب سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي على حمص وكان يصيبه غشية وهو بين ظهري أصحابه فذكر ذلك لعمر بن الخطاب فسأله في قدمة قدم عليه من حمص فقال: يا سعيد! ما الذي يصيبك؟ أبك جنة؟ قال: لا والله يا أمير المؤمنين! ولكنني فيمن حضر خبيبا حين قتل، سمعت دعوته، فوالله ما خطرت على قلبي وأنا في مجلس إلا غشى علي! فزادته عند عمر خيرا."ابن سعد".
٣٧٠٢٩۔۔۔ عثمان بن محمد اخنسی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعید بن عامر حذیم جمحی (رض) کو حمص کا گورنر مقرر کیا چنانچہ سعید بن عامر (رض) پر غشی طاری ہوجاتی تھی سعید (رض) اپنے ساتھیوں میں موجود تھے کہ حضرت عمر (رض) سے ان کی غشی کا ذکر کیا گیا جب حضرت عمر (رض) حمص تشریف لائے فرمایا : اے سعید ! تمہیں کیسی غشی طاری ہوجاتی ہے ؟ کیا تمہیں پاگل پن لاحق ہوجاتا ہے ؟ سعید ! (رض) نے کہا : امیرالمومنین ! اللہ کی قسم ایسا نہیں لیکن خبیب (رض) کو جب قتل کیا گیا ان کے پاس موجود لوگوں میں میں بھی تھا۔ میں نے ان کی دعا اپنے کانوں سے سنی تھی اللہ کی قسم ! اس دعا نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ میں مجلس میں بھی ہوتا ہوں اگر مجھے وہ وقت یاد آجائے مجھے غشی طاری ہوجاتی ہے چنانچہ ایمان افروز کیفیت سن کر حضرت عمر (رض) کی بھلائی میں اضافہ ہوا۔ (رواہ ابن سعد)