37039- أنبأنا معمر عن الزهري أو قتادة أو كليهما أن يهوديا جاء يتقاضى النبي صلى الله عليه وسلم: قد قضيتك، فقال اليهودي: بينتك! فجاء خزيمة الأنصاري فقال: أنا أشهد أنه قد قضاك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما يدريك؟ فقال إني أصدقك بأعظم من ذلك، أصدقك بخبر السماء؛ [فأجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته بشهادة رجلين] . " ... "
٣٧٠٣٩۔۔۔ معمر، زہری یا قتادہ یا دونوں سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنا قرض مانگنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے قرضہ نہیں ادا کردیا ہے یہودی نے گواہوں کا مطالبہ کیا اتنے میں حضرت خزیمہ انصاری (رض) ادھر آنکلے اور عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ (رض) سے فرمایا : بھلا تمہیں کیونکہ معلوم ہے ؟ عرض کیا : میں اس سے عظیم ترمعاملہ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں اور آسمان کی خبریں لانے پر تصدیق کرتا ہوں ” چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر جائز قرار قراردیا “۔
فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث ابن حجر نے اصابہ میں ذکر کی ہے ٩٣٣ اور آخری جملہ صرف اصابہ میں ہے۔ وقال رواہ الدارقطنی۔