37038- عن خزيمة بن ثابت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى فرسا من سواء بن قيس المحاربي فجحده فشهد له خزيمة بن ثابت، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما حملك على الشهادة ولم تكن معنا حاضرا؟ قال: صدقتك بما جئت به وعلمت أنك لا تقول إلا حقا،فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شهد له خزيمة أو شهد عليه فحسبه. "ع" وأبو نعيم؛ "كر، عب".
٣٧٠٣٨۔۔۔ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوار بن قیس محاربی سے گھوڑا خریدا سواربن قیس نے خریداری سے انکار کردیا خزیمہ بن ثابت (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں گواہی دی بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) سے بوچھا : بھلا تم نے کیونکر گواہی دی حالانکہ تم ہمارے پاس موجود نہیں تھے ؟ عرض کیا : آپ جو تعلیمات لے کر آئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا مجھے یقین ہوگیا کہ آپ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے حق میں یا اس کے خلاف خزیمہ گواہی دے اس کے لیے صرف اسی کی گواہی کافی ہے۔ (رواہ ابویعلی و ابونعیم وابن عساکر وعبدالرزاق)