hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37311

.

كنز العمال

37311
Kanz al-Ummal
37301- عن ابن عباس قال: كانت للعباس بن عبد المطلب دار بالمدينة إلى جنب المسجد فقال: هبها لي أو بعنيها حتى أدخلها في المسجد، فأبى، قال: فاجعل بيني وبينك رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعلا أبي بن كعب بينهما، قال فقضى أبي على عمر: قال فقال عمر: ما من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا أجرأ علي من أبي قال: أو أنصح لك مني يا أمير المؤمنين! أما علمت قصة المرأة أن داود لما بني بيت المقدس أدخل فيه بيت امرأة بغير إذنها فلما بلغ حجر الرجال منع بناءه فقال: أي رب إذ منعتني بناءه فاجعله من عقبي من بعدي، فلما كان بعد قال له العباس: أليس قد قضيت لي بها؟ قال: بلى، قال؟ فهي لك قد جعلتها لله."ابن سعد ويعقوب بن سفيان، ق، كر وسنده حسن".
٣٨٠٠٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) کا مدینہ میں ایک گھر تھا جو مسجد کے پڑوس میں تھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ گھر مجھے ہبہ کردو یا مجھے بیچ دو تاکہ میں اسے مسجد میں شامل کردوں۔ عباس (رض) نے گھر دینے سے انکار کردیا عمر (رض) نے کہا : کوئی ثالث مقرر کرو جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کرے چنانچہ دونوں نے حضرت ابی بن کعب (رض) پر اتفاق کرلیا حضرت ابی (رض) نے عمر (رض) کے خلاف فیصلہ دیا۔ عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں ابی بن کعب سے بڑھ کر مجھ پر جرات کرنے والا کوئی نہیں ابی (رض) بولے : اے امیر المومنین مجھ سے زیادہ آپ کے لیے کوئی خیرخواہ بھی نہیں ہے۔ کیا آپ کو ایک عورت کا قصہ معلوم نہیں ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے جب بیت المقدس تعمیر کرنا چاہا اس میں ایک عورت کا گھر اس کی اجازت کے بغیر داخل کرلیا جب لوگوں کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے عمارت کھڑی کرنے میں رکاوٹیں ڈال دیں داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب جب تو نے بیت المقدس کی عمارت میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے تو اسے میرے بعد میری اولاد میں بھی رکھ اسی وجہ سے بعد میں بھی رکاوٹ ہوئی عباس (رض) نے کہا : کیا تم نے میرے حق میں فیصلہ نہیں دیا ہے۔ ابی (رض) نے جواب دیا : جی ہاں عباس (رض) نے کہا : اے عمر ! یہ گھر میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں۔ (رواہ ابن سعد و یعقوب بن سفیان والبیھقی وابن عساکر وسند حسن)