hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37315

.

كنز العمال

37315
Kanz al-Ummal
37305- عن الأحنف بن قيس قال سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن قريشا رؤوس الناس، لا يدخل أحد منهم في باب إلا دخل معه فيه طائفة من الناس، فلم أدر ما تأويل قوله في ذا حتى طعن، فلما احتضر أمر صهيبا أن يصلي بالناس ثلاثة أيام، وأمر أن يجعل للناس طعام فيطعموا حتى يستخلفوا إنسانا، فلما رجعوا من الجنازة جيء بالطعام ووضعت الموائد، فأمسك الناس عنها للحزن الذي هم فيه، فقال العباس عبد النطلب: أيها الناس! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات فأكلنا بعده وشربنا ومات أبو بكر فأكلنا بعده وشربنا وإنه لا بد من الأجل فكلوا من هذا الطعام، ثم مد العباس يده فأكل ومد الناس أيديهم فأكلوا، فعرفت قول عمر إنهم رؤوس الناس."ابن سعد وابن منيع وأبو بكر في الغيلانيات، كر".
٣٧٣٠٤۔۔۔ احنف بن قیس کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : قریش لوگوں کے رؤسا (سردار) ہیں، ان میں سے جو بھی کسی باب میں داخل ہوتا ہے لوگوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ شریک ہوجاتی ہے۔ احنف بن قیس کہتے ہیں : حضرت عم (رض) کو تین دن تک نماز پڑھانے کا حکم دیا نیز آپ نے حکم دیا کہ لوگوں کو کھانا کھلایا جائے حتیٰ کہ کسی شخص کو لوگ اپنا خلیفہ نامزد کرلیں۔ جب لوگ جنازے سے واپس لوٹے کھانا لایا گیا اور دسترخوان لگائے گئے لوگوں نے غم وحزن کی وجہ سے کھان کھانے سے ہاتھ روک لیے جب حضرت عباس (رض) نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا : اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے ہم ان کے بعد کھاتے پیتے رہے ابوبکر (رض) دنیا سے رخصت ہوئے ہم ان کے بعد بھی کھاتے پیتے رہے کھانے پینے کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں لہٰذا یہ کھانا کھاؤ پھر عباس (رض) نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کھانا شروع کیا لوگوں نے بھی انھیں دیکھ کر کھانا شروع کردیا اب مجھے عمر (رض) کا فرمان سمجھ آیا کہ قریش لوگوں کے سردار ہیں۔ (رواہ ابن سعید وابن منیع و ابوبکر فی العیلانیات وابن عساکر)