hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37524

.

كنز العمال

37524
Kanz al-Ummal
37513 عن السرى بن إسماعيل عن الشعبي قال حدثني سفيان ابن الليل قال : لا قدم الحسن بن علي المدينة من الكوفة أتيته فقلت له : يا مذل المؤمنين ! قال : لا تقل ذلك فاني سمعت أبي يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تذهب الايام والليالي حتى يملك رجل وهو معاوية ، والله ما أحب أن لي الدنيا وما فيها بعد ما سمعت هذا الحديث أن لا أكون رجعت في المدينة (سمويه ، ورواه نعيمابن حماد في الفتن ، عق بلفظ : والله ما أحب أن لي الدنيا وما فيها وأنه يهراق في محجمة من دم وزاد : قال وسمعت أبي يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أبحنا بقلبه وأعاننا بلسانه وكف يده فهو في الدرجة التي تلينا. قال عق : سفيان بن الليل كوفي ممن يغلو في الرفض ، لا يصح حديثه ، وقال في الميزان : تفرد بحديثه هذا السرى بن إسماعيل أحد الهلكى عن الشعبى ، وقال أبو الفتح الازدي : سفيان بن الليل له حديث : لا تمضي الامة حتى يليها رجل واسع البلعوم وفي لفظ آخر : واسع السرم يأكل ولا يشبع. قال : وسفيان مجهول والخبر منكر انتهى).
٣٧٥١٣۔۔۔ سری بن اسماعیل شعبی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مجھے سفیان ابن لیل نے حدیث سنائی ہے کہ جب حضرت حسن (رض) کوفہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں کے کہا : اے المومنین کے رسوا کرنے والے ! حسن (رض) نے کہا : یہ مت کہو میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : سن اور راتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک کہ ایک شخص بادشاہ نہ بن جائے اور وہ معاویہ ہے۔ اللہ کی قسم مجھے پسند نہیں کہ میرے لیے دنیا ومافیھا ہو اس کے بعد جب میں نے یہ حدیث سن لی کہ میں مدینہ میں لوٹ کے نہ آیا ہوتا۔ (رواہ اسمویہ ورواہ تعیم بن حماد فی الفتن والعقیلی بلفظ) اللہ کی قسم مجھے پسند نہیں ہیں کہ میرے لیے دنیا ومافیھا ہو اور ایک بھی کھوپڑی کا خون بہایا جائے۔ اس میں بھی اضافہ ہے کہ میں نے والد کو کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے دل سے ہمارے ساتھ محبت کی اپنی زبان سے ہماری مدد کی اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھا وہ اس جگہ میں ہوگا جو ہمارے ساتھ ملا ہوا ہے عقیلی کہتے ہیں۔ میزان میں ہے : شعبی سے یہ حدیث روایت کرنے میں سری بن سفیان متفرد ہے اور یہ ہلاک شرگاہ میں سے ایک ہے۔ ابولفتح ازدی کہتے ہیں : سفیان بن لیل کی ایک حدیث یہ بھی ہے : امت کا خاتمہ اس وقت تک ہیں ہوگا جب تک کہ اس کا حکمران وہ شخص نہ ہوجائے جو کشادہ حلقوم والا ہوگا وہ کھاتا جائے گا لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرے گا یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد ابوالفتح کہتے ہیں : سفیان مجہول روای ہے جبکہ حدیث منکر ہے۔ (انتھیٰ )