hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37525

.

كنز العمال

37525
Kanz al-Ummal
37514 (مسند ثابت بن قيس) عن إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شماس عن أبيه أن أباه فارق جميلة بنت عبد الله بن أبي وهي نسوء حامل بمحمد بن ثابت ، فلما وضعت حلفت أن لا تلبنه من لبنها ، فجاء به ثابت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خرقة فأخبره بالقصة ، فقال : ادنه مني ، قال : فأدنيته منه فبزق في فيه وسماه محمدا وحنكه بتمرة عجوة وقال : اذهب به فان الله رازقه ، فاختلفت به اليوم الاول والثاني فلقيتني امرأة من العرب تسأل عن ثابت بن قيس بن شماس قلت : وما تريدين منه ؟ أنا ثابت ، فقالت : رأيتني في ليلتي هذه كأني أرضع ابنا له يقال له محمد ! قال : فأنا ثابت وهذا ابني محمد ، قال : فأخذته (ابن منده والبغوي وأبو نعيم في المعرفة ، كر).
٣٧٥١٤۔۔۔” مسند ثابت بن قیس “ اسماعیل بن محمد بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد (ثابت بن قیس (رض)) نے جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سے علیحدگی اختیار کرلی جبکہ وہ حاملہ تھی اور اس کے بطن میں محمد بن ثابت (رض) تھے جب اس نے وضع حمل کیا قسم کھالی کہ وہ اسے دودھ نہیں پلائے گی ، چنانچہ حضرت ثابت (رض) بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں لے آئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا : اسے میرے قریب لاؤ کہتے ہیں میں نے بچہ قریب کیا : آپ نے بچے کے منہ میں تھوکا اور اس کا نام محمد رکھا اور عجوہ کھجور سے اس کی گھٹی دی پھر فرمایا : اسے لے جاؤ اللہ ہی اسے رزق دینے والا ہے چنانچہ ایک دو دن ہی گزرنے پائے تھے کہ عرب کی ایک عورت مجھ سے ملنے آئی اور وہ لوگوں سے ثابت بن قیس بن شماس کے متعلق پوچھتی رہی میں نے عورت سے کہا : تجھے اس سے کیا کام ہے ؟ وہ بولی : آج رات میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو دودھ پلارہی ہوں اور اس کا نام محمد ہے وہ بولے : میں ہی ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے چنانچہ وہ عورت بچے کو لیتی گئی۔ (رواہ ابن مندہ والبغوی و ابونعیم فی المعرفہ وابن عساکر)