37543 عن واثلة قال : أتيت فاطمة أسألها عن علي ، فقالت : توجه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس. فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي وحسن وحسين كل واحد منهما بيده حتى دخل ، فأدنى عليا وفاطمة فأجلسهما بين يديه وأجلس حسنا وحسينا كل واحد منهما على فخذهثم لف عليه ثوبه أو قال : كساءه ثم تلا هذه الآية (إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت) ثم قال : اللهم !إن هؤلاء أهل بيتي ، وأهل بيتي أحق ، فقلت : يا رسول الله ! وأنا من أهلك ، فقال : وأنت من أهلي. قال واثلة : إنها لمن أرجى ما أرجو (ش ، كر)
٣٧٥٤٣۔۔۔ واثلہ (رض) کہتے ہیں : میں حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آیا اور ان سے حضرت علی (رض) کے بارے میں پوچھا : وہ بولیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ہیں۔ میں وہیں بیٹھ گیا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ان کے ساتھ حضرت علی (رض) حسن (رض) اور حسین (رض) بھی تھے، جبکہ آپ نے حسنین کریمین (رض) کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اندر تشریف لائے پھر حضرت علی (رض) اور فاطمہ (رض) کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھایا جبکہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو اپنی ران پر بٹھایا پھر آپ نے اپنی چادر لپیٹ لی اور پر آیت تلاوت کی ” انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت “ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ تم سے گندگی دور کرنا چاہتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : یا اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں بھی تو آپ کے اہل میں سے ہوں ۔ فرمایا : تو بھی میرے اہل میں سے ہے واثلہ (رض) کہتے ہیں جو چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے لیے چاہی وہ میرے لیے بھی چاہی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)