37548- عن المفضل بن غسان قال: قلت ليحيى بن معين: إن أبا أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي حدثني عن خالد بن يزيد بن عبد الرحمن ابن أبي مالك عن أبيه عن جده هانئ أبي مالك الهمداني قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن فأسلمت، ومسح رسول الله صلى الله عليه وسلم برأسي ودعا لي بالبركة، ثم أنزله على يزيد بن أبي سفيان، ثم خرج في الجيش إلى الشام الذي بعثهم أبو بكر الصديق فلم يرجع. فضعف يحيى خالد بن يزيد هذا. "كر".
٣٧٥٤٧۔۔۔ مفضل بن غسان کہتے ہیں میں نے یحیی بن معین سے کہا : مجھے ابوایوب سلیمان بن عبدالرحمن دمشقی نے اس سند سے حدیث بیان کی خالد بن یزید عبدالرحمن بن ابی مالک، وہ اپنے والد اور دادا ھانی ابومالک ھمدانی سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں یمن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سرپر دست شفقت پھیرا اور میرے لیے دعائے برکت کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھانی (رض) کو یزید ابی سفیان کے ہاں ٹھہرایا پھر اس لشکر کے ساتھ شام روانہ ہوگئے جسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھیجا تھا پھر وہ شام سے واپس نہیں لوٹے۔ چنانچہ یحییٰ بن معین نے خالد بن یزید کو ضعیف قرار دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)