37547- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليدخلن من هذا الباب رجل ينظر الله إليه، فدخل غلام للمغيرة بن شعبة حبشي يقال له هلال غائر العينين، ذابل الشفتين، بادي الثنايا، خميص البطن، أحمش الساقين، أحنف القدمين، مهزول، تعلوه صفرة، على سوأته خرقة، وهو يحرك شفتيه بالذكر والتسبيح؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مرحبا بهلال! هل لك في الغداء؟ بل صم على ما أنت عليه، وصل علي يا هلال. "أبو عبد الرحمن السلمي في سنن الصوفية والديلمي
٣٧٥٤٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دروازہ سے ضرور ایک شخص داخل ہوگا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظررحمت سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت بن شعبہ (رض) کا ایک حبشی غلام داخل ہوا اس کا نام ہلاک تھا اس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں اس کے ہونٹ موٹے تھے سامنے کے دانت ظاہری دکھائی دیتے تھے پیٹ سکڑا ہوا تھا پنڈلیاں پتلی پتلی تھیں پاؤں کے تلوے ہموار مہزول کمر چہرے کی سیاہی پر زردی کا غلبہ تھا وہ ذکر و تسبیح میں مشغول اپنے ہونٹ بلارہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :! ہم ہلال کو آنے پر مرحبا کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤگے بلکہ اپنی عادت کے موافق روزے میں رہو اور اے ہلال : مجھ پر درود بھیجا کرو۔۔ (رواہ ابوعبید الرحمن السلمی فی سنن الوفیہ والدیلمی)