37552- عن أنس بن مالك قال: بعثني الأشعري إلى عمر: فقال عمر : كيف تركت الاشعري ؟ فقلت له : تركته يعلم الناس القرآن ، فقال : أما ! إنه كيس ولا تسمعها إياه ، ثم قال : كيف تركت الاعراب ؟ قلت : الاشعريين ؟ قال : لا بل أهل البصرة ، قلت : أما إنهم لو سمعوا هذا لشق عليهم ، قال : فلا تبلغهم فانهم أعراب إلا أن يرزق الله رجلا جهادا في سبيل الله (ابن سعد).
٣٧٥٥١۔۔۔ انس بن مالک کی روایت ہے کہ مجھے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجا حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم نے اشعری کو کسی حال میں چھوڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے انھیں لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے چھوڑا ہے عمر (رض) نے فرمایا : بلاشبہ وہ عقلمند آدمی ہے پھر پوچھا : تم نے اعراب کو کس حال میں چھوڑا میں نے کہا : آپ اشعرین کے متعلق پوچھ رہے ہیں ؟ فرمایا : نہیں بلکہ میں اہل بصرہ کے متعلق پوچھ رہا ہوں میں نے کہا : اگر وہ کلمہ (اعراب یعنی گنواردیہاتی) سن لیں تو یہ ان ہر گراں گزرے گا فرمایا : انھیں یہ بات مت پہنچاؤ بلاشبہ وہ تو اعراب (گنوار) ہیں الایہ کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جہاد فی سبیل اللہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (رواہ ابن سعد)