37584 عن ثعلبة بن مالك أن عمر بن الخطاب قسم مروطا بين نساء أهل المدينة فبقي منها مرط جيد ، فقال له بعض من عنده : يا أمير المؤمنين ! أعط هذا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك يريدون أم كلثوم بنت علي فقال عمر : أم سليط أحق به وأم سليط من نساء الانصار ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال عمر : فانها قد كانت تزفر لنا القرب يوم أحد (خ ، حل وأبو عبيد في الاموال) .
٣٧٥٨٤۔۔۔ ثعلبہ بن مالک کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک مرتبہ عورتوں میں چادریں تقسیم کیں ایک عمدہ سی چادر باقی بچ گئی بعض لوگوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! یہ چادر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی جو آپ کے نکاح میں ہے یعنی ام کلثوم بنت علی (رض) کو دے دیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ام سلیط اس چادر کی زیادہ مستحق ہے ام سلیط انصار کی ان عورتوں میں سے ہیں جنھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست پر بیعت کی تھی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ام سلیط احد کے دن ہمارے لیے مشکیں بھربھر کر لاتی تھی (رواہ البخاری و ابونعیم فی الحلیۃ وابو عبیدہ فی الاموال)