37585 عن سفيان قال : بلغني عن عمر أنه أتى أبا عبيدة فكأنه رأى شيئا فقال لامرأته : أنت الفاعلة كذا وكذا ! لقد هممت أن أسودك ! فقالت : ما أنت على ذلك بقادر ! فقال أبو عبيدة : بلى قد قدرك الله على هذا يا أمير المؤمنين ! قالت : أتستطيع أن تسلبني الاسلام ؟ قال لا ، قالت : فأنا لا أبالي ما وراء ذلك ! فقال عمر : رحمك الله ! لقد وقع الاسلام منك موقعا لا أظنه يفارقك حتى يدخلك الجنة (ابن المبارك).
٣٧٥٨٥۔۔۔ سفیان کی روایت ہے کہ مجھے حضرت عمر (رض) کی حدیث پہنچی ہے کہ وہ حضرت ابوعبیدہ (رض) کے پاس آئے ابوعبیدہ (رض) کی اہلیہ نے کچھ خاص توجہ نہ دی اس پر ابوعبیدہ (رض) غصہ ہوئے اور بولے : تو نے ایسا اور ایسا کیا ہے میں نے تجھے رسوا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے بیوی نے جواب دیا : آپ اس پر قادر نہیں ہیں۔ ابوعبیدہ (رض) بولے : اے امیرالمومنین (رض) اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت دے رکھی ہے۔ بیوی بولی : کیا تم مجھ سے اسلام کی دولت چھیننا چاہتے ہو جواب دیا : نہیں۔ بولی : پھر مجھے اس کے بعد کوئی پروا نہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے اسلام تمہارے دل میں رچ بس گیا ہے میرا خیال ہے کہ اسلام تمہیں جنت میں داخل کرکے چھوڑے گا۔۔ (رواہ ابن المبارک)