37586 عن المستظل بن حصين أن عمر بن الخطاب خطب إلى علي بن أبي طالب ابنته أم كلثوم ، فاعتل بصغرها ، فقال : إني لم أرد الباءة ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة ما خلا سببي ونسبي ، وكل ولد فان عصبتهم لابيهم ما خلا ولد فاطمة ، فاني أنا أبوهم وعصبتهم (أبو نعيم في المعرفة ، كر) .
٣٧٥٨٦۔۔۔ مستظل بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو ان کی بیٹی ام کلثوم بنت علی (رض) کا پیغٖام نکاح بھیجا حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے بیٹی کے کمسن ہونے کا عذر بیان کیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس سے زوجیت کے ارادہ سے نکاح نہیں کرنا چاہتا لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن سوائے میرے نسبی تعلق کے ہر قسم کا نسبی تعلق منقطع ہوجائے گا ہر اولاد کے عصبہ کی نسبت والد کی طرف ہوتی ہے سوائے فاطمہ (رض) کی اولاد کے سو میں ان کا باپ اور ان کا عصبہ ہوں ۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ عصبہ سے مراد گوشت پوست میں شریک رشتہ دار۔