hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37612

.

كنز العمال

37612
Kanz al-Ummal
37599 عن إسحاق العزري عن أم عروة بنت جعفر بن الزبير بن العوام عن أبيها جعفر عن الزبير بن العوام عن أمه صفية بنت عبد المطلب قالت : لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أحد خلفني أنا ونساءه في أطم يقال له فارع عند المسجد ، فأدخلنا فيه ومعنا حسان بن ثابت ، فترقي إلينا يهودي من اليهود حتى أطل علينا في الاطم فقلت لحسان بن ثابت قم إليه فاقتله ، فقال : ما ذاك في ، لو كان ذلك في لكنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقلت : فاربط السيف على ذراعي ، فربطه فقمت إليه حتى قطعت رأسه ، فقلت : خذ بأذنه فارم به عليهم فسقطوا وهم يقولون : لقد ظننا أن محمدا لم يكن ليترك أهله خلوفا لا رجل معهم (كر)
٣٧٥٩٩۔۔۔ اسحاق عزری ام عروہ بنت صعفربن زبیر بن عوام وہ آپ کے والد جعفر بن زبیر سے وہ اپنی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب سے روایت نقل کرتے ہیں صفیہ (رض) کہتی ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکل گئے مجھے اور دوسری عورتوں کے مسجد کے پاس ایک ٹیلے پر پیچھے چھوڑ گئے ہمیں اس مسجد میں داخل کرگئے اور ہمارے ساتھ حسان بن ثابت (رض) بھی تھے۔ چنانچہ ایک یہودی مسئلے پر چڑھ کر ہماری طرف آنے لگا حتیٰ کہ ایک ٹیلے سے نمودار ہوا میں نے حسان بن ثابت سے کہا کھڑے ہوجاؤ اور اسے قتل کردوحسان (رض) بولا : یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ اگر مجھ سے ایسا ہوسکتا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میدان کارزار میں ہوتا میں نے کہا : اچھا پھر تلوار میری زرہ سے باندھ دو حسان (رض) نے تلوار باندھ دی اور میں یہودی کی طرف گئی اور اس کا سرکاٹ لائی میں نے کہا : یہ سراٹھا کر یہودیوں کی طرف پھینک آؤ تاکہ وہ اوپر آنے کی جسارت نہ کرسکیں وہ سمجھتے ہیں کہ محمد نے اپنے اہل و عیال میں اپنے پیچھے کوئی مرد نہیں چھوڑا اور تاکہ انھیں کسی مرد کی موجودگی کا یقین ہوجائے۔ (رواہ ابن عساکر)