37606- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قال: كانت عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل تحت عبد الله بن أبي بكر فجعل لها طائفة من ماله على أن لا تتزوج بعده ومات، فأرسل عمر إلى عاتكة أنك قد حرمت ما أحل الله لك فردي إلى أهله المال الذي أخذتيه وتزوجي، ففعلت فخطبها عمر فنكحها."ابن سعد".
٣٧٦٠٣۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں : عاتکہ بنت زیدین عمروبن نفیل (رض) عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے نکاح میں تھیں، عبداللہ (رض) نے عاتکہ کو کافی سارا مال دے رکھا تھا اور شرط عائد کی تھی کہ ان بعد عاتکہ کسی اور سے شادی نہیں کرے گی چنانچہ جب عبداللہ (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے حضرت عمر (رض) نے عاتکہ کو پیغام بھیجا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ حکم کو اپنے اوپر حرام کردیا ہے لہٰذا لیا ہوا مال عبداللہ کے وارثوں کو واپس کردو اور شادی کروعات کہ نے مال واپس کردیا پھر عمر (رض) نے انھیں پیغام نکاح بھیجا جسے قبول کرلیا اور یوں حضرت عمر (رض) نے عاتکہ (رض) سے نکاح کرلیا۔ (رواہ ابن سعد)