hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37617

.

كنز العمال

37617
Kanz al-Ummal
37607- عن علي بن يزيد أن عاتكة بنت زيد كانت تحت عبد الله بن أبي بكر فمات عنها واشترط عليها ألا تزوج بعده، فتبتلت وجعلت لا تزوج، وجعل الرجال يخطبونها وجعلت تأبى، فقال عمر لوليها: اذكرني لها، فذكره لها فأبت على عمر أيضا، فقال عمر: زوجنيها: فزوجه إياها، فأتاها عمر فدخل عليها فعاركها حتى غلبها على نفسها فنكحها، فلما فرغ قال: أف أف أف أفف بها ثم خرج من عندها وتركها لا يأتيها، فأرسلت إليه مولاة لها أن تعال فإني سأتهيأ لك."ابن سعد، وهو منقطع".
٣٧٦٠٤۔۔۔ علی بن یزید کی روایت ہے کہ عاتکہ بنت زید عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے نکاح میں تھیں عبداللہ (رض) وفات پاگئے اور عاتکہ پر یہ شرط عائد کردی کہ ان کے بعد کسی سے شادی نہیں کرے گی چنانچہ عاتکہ بن شادی کے بیٹھ گئی جبکہ مردوں کے پیغام کے پیغام ملتے اور وہ نکاح سے انکار کرلیتی چنانچہ حضرت عمر (رض) نے عاتکہ کے ولی سے اس کا تذکرہ کیا اور کہا : عاتکہ میرا پیغام نکاح دو ولی نے پیغام دیا عاتکہ نے پھر انکار کردیا حضرت عمر (رض) نے ولی سے کہا : اس سے میری شادی کرادو چنانچہ ولی نے شادی کرادی، جب حضرت عمر (رض) عاتکہ کے پاس آئے اس کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بالآخر عمر (رض) اس پر غالب آگئے اور صحبت کرلی جب فارغ ہوئے فرمایا : اف، اف، اس عورت پر اف ہے بھر اس کے پاس سے نکل گئے اور پھر کچھ دنوں کے لیے اسے یونہی چھوڑ دیا اور اس کے پاس نہ آئے چنانچہ عاتکہ نے اپنی باندی حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجی کہ تشریف لائیں میں آپ (رض) کے لیے تیاری کرتی ہوں۔ (رواہ ابن سعد واھومنقطع)