hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37620

.

كنز العمال

37620
Kanz al-Ummal
37610- عن علي قال: لما ماتت فاطمة بنت أسد بن هاشم كفنها النبي صلى الله عليه وسلم في قميصه، وصلى عليها فكبر عليها سبعين تكبيرة ونزل في قبرها فجعل يومي في نواحي القبر كأنه يوسعه ويسوي عليها، وخرج من قبرها وعيناه تذرفان، وحثا في قبرها، فلما ذهب قال له عمر بن الخطاب: يا رسول الله! رأيتك فعلت في هذه المرأة شيئا لم تفعله على أحد! فقال: يا عمر! هذه المرأة كانت أمي بعد أمي التي ولدتني، إن أبا طالب كان يصنع الصنيع وتكون له المأدبة وكان يجمعنا على طعامه فكانت هذه المرأة تفضل منه كله نصيبا فأعود فيه، وإن جبريل أخبرني عن ربي أنها من أهل الجنة، وأخبرني جبريل أن الله تعالى أمر سبعين ألفا من الملائكة يصلون عليها. "المستدرك للحاكم: 3/108".
٣٧٦٠٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کی وفات ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی قمیص میں کفن دیا، ان پر نماز جنازہ پڑھائی اور ستر تکبریں کہیں۔ پھر آپ قبر میں اترے اور ہاتھ سے یوں اشارے کیے جسے آپ قبر میں توسع کررہے ہوں۔ پھر قبر سے باہر نکل آئے جبکہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے آپ نے مٹھی بھر مٹی قبر میں ڈالی جب آپ چل پڑے عمر (رض) نے آپ سے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ اس عورت کے ساتھ وہ کچھ کرتے دیکھا ہے جو آپ نے کسی عورت کے ساتھ نہیں کیا آپ نے فرمایا : عمر ! یہ عورت میری حقیقی ماں کے بعد ماں کا درجہ رکھتی ہے ابوطالب کا میرے ساتھ اچھا رویہ رہا ہے ان کا دسترخوان بچھتا تھا جس پر ہمیں جمع کیا جاتا یہ عورت ابوطالب کے ہاں فضلیت والی عورت تھی جبرائیل امین نے مجھے اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ یہ اہل جنت میں سے ہے مجھے جبرائیل امین نے یہ خبر بھی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ المستدرک للحاکم ٣/١٠٨)