hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37630

.

كنز العمال

37630
Kanz al-Ummal
37620- عن حذيفة قال: سألتني أمي متى عهدك بالنبي صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: مذ كذا وكذا، فدعيني أصلى معه المغرب ثم لا أدعه حتى يستغفر لي ولك، فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء الآخرة ثم صلى حتى لم يبق في المسجد أحد فعرض له عارض فناجاه ثم انفتل فعرف صوتي فقال: حذيفة؟ فقلت: نعم، قال: ما جاء بك؟ غفر الله لك ولأمك يا حذيفة! هذا ملك لم يكن نزل قبل الليلة إلى الأرض، استأذن ربه أن يسلم علي فأذن له وبشرني أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة والحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة. "ابن جرير".
٣٧٦١٧۔۔۔ حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے پوچھا : تم کب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے۔ میں نے کہا اتنے اتنے عرصہ سے۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دوتا کہ میں آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں اور پھر میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا جب تک آپ میرے لیے اور تمہارے لیے استغفار نہ کرلیں چنانچہ میں نے آپ کے ساتھ مغرب اور پھر عشاء کی نماز پڑھی لوگ مسجد سے چلے گئے اور کوئی بھی نہ رہا چنانچہ آپ پر کوئی خاص کیفیت طاری ہوئی جب یہ کیفیت چھٹ گئی تو آپ نے میری آواز پہچان لی اور فرمایا : اے حذیفہ ! میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیوں آئے ہو ؟ اے حذیفہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری مان کی مغفرت فرمائے۔ یہ فرشتہ نازل ہوا ہے جو اس سے قبل نازل نہیں ہوا، یہ اپنے رب تعالیٰ سے اجازت لیتا یے کہ مجھ پر سلام پیش کرے رب تعالیٰ نے اسے اجازت دی اس نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ فاطمہ (رض) جتنی عورتوں کی سردار ہے اور حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔۔ (رواہ ابن جریر)