37630- عن محمد بن إسحاق عن نافع مولى ابن عمر عن ابن عمر وعن سعيد المقبري عن عمار وأبي هريرة قالوا: قدمت درة بنت أبي لهب المدينة مهاجرة، فنزلت في دار رافع بن المعلى فقال لها نسوة جلسن إليها من بني زريق: ابنة أبي لهب الذي أنزل الله فيه "تبت يدا أبي لهب" فما يغني هجرتك! فأتت درة رسول الله صلى الله عليه وسلم فبكت وذكرت ما قلن لها، فسكنها وقال: اجلسي ثم صلى بالناس الظهر، ثم جلس على المنبر ساعة ثم قال: يا أيها الناس! مالي أوذى في أهلي؟ فوالله إن شفاعتي تنال قرابتي حتى أن صداء وحكم وحاء وسلهب لتنالها يوم القيامة. "الديلمي".
٣٧٦٢٧۔۔۔ محمد بن اسحاق نافع مولائے ابن عمروابن عمر (رض) و سعید مقبری عمار (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ درہ بنت ابی لہب ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئی اور رافع معلی کے گھر ٹھہری چنانچہ بن زریق کی عورتیں اس کے پاس بیٹھیں اور کہنے لگیں : یہ ابولہب کی بیٹی ہے جس کے بارے میں ” تبت یدا ابی لھب وتب “ نازل ہوئی ہے سو تمہاری ہجرت اسے نفع نہیں گی درۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور رونے لگی اور آپ سے عورتوں کا تذکرہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درہ کو تسلی دی اور فرمایا : یہیں بیٹھی رہو آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی پر تھوڑئی دیر کے لیے منبر پر بیٹھے پھر فرمایا : اے لوگو : مجھے میرے اہل بیت کے متعلق کیوں اذیت پہنچائی جاتی ہے ؟ اللہ کی قسم میری شفاعت میرے قرابتداروں کو پائے گی حتیٰ کہ صداء حکم حاء اور سلہب کو انھیں قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوئی۔ (رواہ الدیلمی)