37631- عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها فجاءت الخادم فقالت: علي وفاطمة بالسدة، فقال: تنحي لي عن أهل بيتي، فتنحيت في ناحية البيت، فدخل علي وفاطمة وحسن وحسين فوضعهما في حجره، وأخذ عليا بإحدى يديه فضمه إليه، وأخذ فاطمة باليد الأخرى فضمها إليه وقبلها وأغدف1 خميصة سوداء، ثم قال: اللهم إليك لا إلى النار أنا وأهل بيتي! فناديته فقلت: وأنا يا رسول الله! قال: وأنت. "ش".
٣٧٦٢٨۔۔۔ ام سلمہ اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تھے اتنے میں خادمہ آئی اور بولی : علی فاطمہ (رض) دروازے پر کھڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میرے اہل بیت کے لیے ذرا الگ ہوجاؤ میں اٹھ کر گھر کے ایک کونے میں چلی گئی علی فاطمہ حسن اور حسین (رض) اندر داخل ہوئے حسن و حسین (رض) کو آپ نے گود میں بٹھایا ایک ہاتھ سے علی (رض) کو پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹالیے دوسرے ہاتھ سے فاطمہ (رض) کو پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹالیا اور انھیں بوسہ دیا اور اپنی سیاہ چادر ان پر ڈال دی پھر فرمایا : یا اللہ ! ان کا ٹھکانا اپنے پاس رکھنا نہ کہ دوزخ میں میں اور میرے اہل بیت کا مرجع تیری طرف ہے میں نے آواز دی : یارسول اللہ ! میں بھی فرمایا : اور تو بھی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)