37671- عن أم سلمة قالت: دخل الحسين على النبي صلى الله عليه وسلم وأنا جالسة على الباب فتطلعت فرأيت في كف النبي صلى الله عليه وسلم شيئا يقلبه وهو نائم على بطنه، فقلت: يا رسول الله! تطلعت فرأيتك تقلب شيئا في كفك والصبي نائم على بطنك ودموعك تسيل! فقال: أن جبريل أتاني بالتربة التي يقتل عليها فأخبرني أن أمتي يقتلونه. "ش".
٣٧٦٦٨۔۔۔ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت حسین (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے میں دروازے کے پاس سو رہی تھی میں نے جھانک کر دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے جسے وہ الٹ پلٹ رہے ہیں میں نے کہا یارسول اللہ ! میں نے آپ کو جھانک کر دیکھا آپ اپنی ہتھیلی میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے تھے جبکہ بچہ آپ کے بطن مبارک پر سو رہا تھا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : جبرائیل امین میرے پاس اس سرزمین کی مٹی لائے تھے جہاں یہ بچہ قتل کیا جائے گا انھوں نے مجھے خبردی ہے کہ میری امت قتل کرے گی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)