37672- عن أنس قال: استأذن ملك القطر أن يأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن له، فقال: يا أم سلمة! احفظي علينا الباب لا يدخل أحد، فجاء الحسين بن علي فوثب حتى دخل فجعل يعقد على منكب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له الملك: أتحبه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: نعم، قال: فإن في أمتك من يقتله، وإن شئت أريتك المكان الذي يقتل فيه، فضرب بيده فأراه ترابا أحمر، فأخذته أم سلمة فصرته في طرف ثوبها. قال: كنا نسمع أن يقتل بكربلاء."أبو نعيم".
٣٧٦٦٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : بارش کے فرشتہ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کی آپ نے اسے اجازت دی اور فرمایا : اے ام سلمہ ! دروازے پر حفاظت کرتا کوئی نہ داخل ہونے پائے۔ چنانچہ حسین (رض) آئے اور چھلانگ لگا کر اندر داخل ہوگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاندھے پر چڑھ کر بیٹھنا شروع کردیا۔ فرشتے نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ۔ وہ بولا : آپ کی امت کے لوگ اسے قتل کریں گے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس جگہ کی مٹی بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ قتل کیا جائے گا۔ فرشتے نے اپنا پر مارا اور سرخ رنگ کی مٹی لادکھائی ۔ چنانچہ ام سلمہ (رض) نے وہ مٹی اٹھالی اور اپنی چادر کے آچل میں باندھ لی۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : ہم کیا کرتے تھے کہ حسین (رض) کربلاء میں قتل کیے جائیں گے۔ (رواہ ابونعیم)