hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37745

.

كنز العمال

37745
Kanz al-Ummal
37735- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه قال: يافاطمة يا بنتي أحني1 علي، فأحنت عليه، فناجاها ساعة ثم انكشفت عنه تبكي وعائشة حاضرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك ساعة: احني علي، فحنت عليه فناجاها ساعة، ثم انكشفت عنه تضحك، فقالت عائشة: يا بنت رسول الله! أخبريني بماذا ناجاك أبوك، قالت: أوشكت رأيته ناجاني على حالي سر ثم ظننت أني أخبر بسره وهو حي؟ فشق ذلك على عائشة أن يكون سر دونها، فلما قبضه الله إليه قالت عائشة لفاطمة: ألا تخبريني ذلك الخبر؟ قالت: أما الآن فنعم، ناجاني في المرة الأولى فأخبرني أن جبريل كان يعارضه القرآن في كل عام مرة وأنه عارضه القرآن العام مرتين، وأخبره أنه لم يكن نبي بعد نبي إلا عاش نصف عمر الذي كان قبله، وأنه أخبرني أن عيسى عاش عشرين ومائة سنة ولا أراني إلا ذاهب على رأس الستين، فأبكاني ذلك، وقال: يابنية! إنه ليس من نساء المؤمنين أعظم رزية منك فلا تكوني أدنى من امرأة صبرا، ثم ناجاني في المرة الأخرى فأخبرني أني أول أهله لحوقا به، وقال: إنك سيدة نساء أهل الجنة. "كر".
٣٧٧٣١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الوفات میں فاطمہ (رض) سے فرمایا : اے فاطمہ (رض) ! اے میری بیٹی ! ذراجھک کر میرے قریب آؤفاطمہ (رض) جھک گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھوڑی دیر سرگوشی کی پھر فاطمہ (رض) پیچھے ہٹ گئی اور وہ رورہی تھی جب کہ عائشہ (رض) ادھر ہی موجود تھیں تھوڑی دیر بعد پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذراجھک کر سرمیرے قریب لاؤ فاطمہ (رض) جھک گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے سرگوشی کی پھر ہنستی ہوئی پیچھے ہٹ گئی حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا ! اے رسول اللہ کی بیٹی ! مجھے بتاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا سرگوشی کی ہے : چنانچہ فاطمہ (رض) نے وفائے راز کا عذر ظاہر کیا حضرت عائشہ (رض) پر گراں گزرا چنانہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس بلالیا حضرت عائشہ (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) سے کہا : کیا تم مجھے وہ خبر نہیں بتاؤگی۔ فاطمہ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں اب بتاؤں گی پہلی مرتبہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے سرگوشی کی آپ نے بتایا کہ قبل ازیں جبرائیل امین ہر سال ایک بار مجھے قرآن سناتے تھے جب کہ اس سال دو مرتبہ سناچکے ہیں جبرائیل امین نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ہر بعد میں آنے والے نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر کے نصف ہوتی ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) ایک سوبیس (١٢٠) سال زندہ رہے ہیں میں یہی سمجھتا ہوں کہ ساٹھ سال پورے ہونے پر میں دنیا سے چلا جاؤں گا چنانچہ مجھے اس خبر نے رلادیا فرمایا : اے بیٹی ! مومنین کی عورتوں میں کوئی عورت ایسی نہیں جس کی مصیبت تیری مصیبت سے بڑھ کر ہو لہٰذا صبر کرنے میں بھی کسی عورت سے کم نہیں ہونا۔ آپ نے پھر دوسری بارسرگوشی کی مجھے خبردی کہ میں آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچوں گی اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تو خواتین جنت کی سردار ہے۔ (رواہ ابن عساکر)