37736- عن يحيى بن جعدة قال: دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة في مرضه الذي توفي فيه فسارها بشيء فبكت، ثم سارها فضحكت، فسألوها فأبت أن تخبر، فلما قبض أخبرتهم، قالت: دعاني فقال: إن الله لم يبعث نبيا إلا وقد عمر الذي بعده نصف عمره، وإن عيسى لبث في بني إسرائيل أربعين سنة وهذه توفي لي عشرين، ولا أراني إلا ميت في مرضي هذا، وإن القرآن كان يعرض علي في كل عام مرة، وإنه عرض علي في هذه السنة مرتين فبكيت، ثم دعاني فقال: أول من يقدم علي من أهلي أنت، فضحكت. "كر".
٣٧٧٣٣۔۔۔ یحییٰ بن جعدہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الوفات میں فاطمہ (رض) کو اپنے پاس بلایا اور فاطمہ (رض) سے سرگوشی کی فاطمہ (رض) رو پڑیں پھر دوبارہ سرگوشی کی جس پر وہ ہنس پڑیں صحابہ (رض) نے فاطمہ (رض) سے رونے اور ہنسنے کی وجہ دریافت کی ؟ فاطمہ (رض) نے بتانے سے انکار کردیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے فاطمہ (رض) نے لوگوں کی خبر کی اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلاکرارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث کیا اسے پہلے نبی کی نصف عمر عطا کی تاہم عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں چالیس سال تک رہے ہیں اور میرے لیے بیس (٢٠) سال پورے ہوچکے ہیں میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں نے اب دنیا سے چلے جانا ہے اور میری موت کا سبب یہی مرض بنے گا نیز قبل ازیں ہر سال جبرائیل امین مجھے ایک بار قرآن سناتے تھے جب کہ اس بار مجھے دو مرتبہ قرآن سنا چکے ہیں اس پر میں رو پڑی آپ نے مجھے پھر بلایا اور ارشاد فرمایا : میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم میرے پاس آؤگی اس پر میں ہنس پڑی۔ (رواہ ابن عساکر)