hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37750

.

كنز العمال

37750
Kanz al-Ummal
37740- عن ابن أبي مليكة أن علي بن أبي طالب خطب ابنة أبي جهل حتى وعد النكاح، فبلغ ذلك فاطمة فقالت لأبيها: يزعم الناس أنك لا تغضب لبناتك، وهذا أبو الحسن قد خطب ابنة أبي جهل وقد وعد النكاح، فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فحمد الله وأثنى بما هو أهله، ثم ذكر أبا العاص بن الربيع فأثنى عليه في صهره ثم قال: إنما فاطمة بضعة مني وإني أخشى أن تفتنوها، والله لا يجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله تحت رجل! فسكت عن ذلك النكاح وترك. "عب".
٣٧٧٣٧۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح بھیجا حتیٰ کہ نکاح کا وعدہ کرلیا گیا حضرت فاطمہ (رض) کو خبر ہوئی انھوں نے اپنے والد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا اور عرض کیا : لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں کرتے اور یہ ہے ابوالحسن اس سے ابوجہل کی بیٹے کو پیغام نکاح بھیجا ہے اور نکاح کا وعدہ بھی کرلیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے حمد ثنا کے بعد ابوالعاص کا ذکر کیا اور اس کے دامادی رشتہ کی تعریف کی پھر فرمایا : فاطمہ (رض) تو میرا گوشہ جگر ہے مجھے خوف ہے تم اگر آزمائش میں نہ ڈال دو ۔ اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کسی شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں ۔ چنانچہ بعد میں اس نکاح سے سکوت کرلیا اور ترک کردیا گیا۔ (رواہ عبدالرزاق)