37741- عن أبي جعفر قال أعطى أبو بكر عليا جارية فدخلت أم أيمن على فاطمة فرأت فيها شيئا فكرهته فقالت: مالك؟ فلم تخبرها، فقالت: مالك! فوالله ما كان أبوك يكتمني شيئا! فقالت: جارية أعطيها أبو الحسن، فخرجت أم أيمن فنادت على باب البيت الذي فيه علي بأعلى صوتها: أما رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يحفظ في أهله، فقال علي: وما ذاك؟ فقالت: جارية بعث بها إليك، فقال علي: الجارية لفاطمة."عب".
٣٧٧٣٨۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت علی (رض) کو باندی عطا کی اس کے بعد ام ایمن (رض) حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آتیں لیکن ام یمن (رض) نے فاطمہ (رض) کے چہرہ اقدس پر خفگی کے اثرات دیکھے اور پوچھا تمہیں کیا ہوا ؟ فاطمہ (رض) نے کچھ جواب نہ دیا : ام ایمن (رض) نے دربارہ استفسار کیا اور کہا اللہ کی قسم تمہارے والد مجھ سے کوئی چیز نہیں چھپاتے تھے پھر تم کیوں چھپاتی ہو فاطمہ (رض) نے کہا : ابوالحسن کو ایک باندی دی گئی ہے چنانچہ ام ایمن (رض) دروازے پر آئیں اور جس پر حضرت علی (رض) تھے اور باآواز بلند کہا خبردار ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے شخص تھے کہ ان کے اہل خانہ کے متعلق ان کی حفاظت کی جاتی تھی حضرت علی (رض) نے پوچھا کیا ہوا ؟ ام ایمن (رض) نے جواب دیا : یہ باندی تمہارے پاس بھیجی گئی ہے حضرت علی
(رض) نے فرمایا : باندی فاطمہ (رض) کی ہوگئی۔ (رواہ عبدالرزاق)