37806- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم وجد على صفية فقالت: يا عائشة! هل لك أن ترضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولك يومي؟ قالت: نعم، فأخذت خمارا لها مصبوغا بزعفران فمسته بالماء ليفوح ريحه ثم جاءت فقعدت إلى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إليك يا عائشة! فإنه ليس بيومك، قالت: فضل الله يؤتيه من يشاء - وأخبرته بالأمر فرضي عنها."ابن النجار".
٣٧٨٠٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیہ (رض) سے کچھ ناراض سے ہوگئے صفیہ (رض) نے کہا : اے عائشہ (رض) ! کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راضی کرسکتی ہو اس کے صلہ میں میں اپنی باری کا دن تمہارے نام کردوں گی ؟ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : جی ہاں : جی ہاں پھر حضرت عائشہ (رض) نے زعفران میں رنگی ہوئی چادرلی اور اسے خوشبو سے معطر کیا پھر آکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں بیٹھ گئیں آپ نے فرمایا : اے عائشہ (رض) اپنی باری کا انتظار کرو آج تمہاری باری کا دن نہیں حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے پھر عائشہ (رض) نے ماجرا سنایا اور آپ صفیہ (رض) سے رضا مند ہوگئے۔ (رواہ ابن النجاز)