hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37869

.

كنز العمال

37869
Kanz al-Ummal
37856- "مسند علي" عن ابن الحنفية قال: وقع بين طلحة وبين علي كلام فقال لعلي: إنك تسمي باسمه وتكني بكنيته وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك أن يجمعا لأحد من أمته! فقال علي إن الجرئ من اجترأ على الله وعلى رسوله، يا فلان ادع لي فلانا وفلانا! فجاء نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من قريش، فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لعلي أن يجمعهما وحرمهما على أمته من بعده. "كر".
٣٧٨٥٦۔۔۔ (مسند علی (رض)) بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ حضرت طلحہ (رض) اور حضرت علی (رض) کے درمیان گفت و شنید ہوئی۔ حضرت طلحہ (رض) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا : آپ نے حضور کا نام (اپنے بیٹے کے لیے ) رکھا اور ان کی کنیت بھی اس کے لیے تجویز کی۔
حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آپ کی امت میں ان کو جمع نہ کرے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک جری وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر جرات کرے، اے فلاں، میرے پاس فلاں فلاں لوگوں کو بلاکر لاؤ۔ چنانچہ چند قریشی اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور انھوں نے شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو رخصت دی تھی اور کہ وہ ان کو جمع کرسکتے ہیں لیکن ان کے علاوہ باقی امت پر ان کو حرام کردیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)