37875- عن هشام بن محمد الكلبي عن فروة بن سعيد عن عفيف ابن معد يكرب عن أبيه عن جده قال: قدم قوم من اليمن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا محمد! أحيانا الله ببيتين من شعر امرئ القيس بن حجر، قال: "وكيف ذلك! " قالوا: أقبلنا نريدك فضللنا، وحملنا ما بلغنا الطريق، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ذاك رجل مذكور" - وفي لفظ: مشهور – "في الدنيا شريف فيها، منسي في الآخرة خامل فيها يجيء يوم القيامة معه لواء الشعراء يقودهم إلى النار". "كر وابن النجار".
٣٧٨٧٥۔۔۔ ہشام بن محمد کلبی روایت کرتے ہیں فروۃ بن سعید سے وہ عفیف بن معدی کرب سے وہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ :
یمن کے کچھ لوگوں کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھوں نے بتایا : اے محمد ! اللہ نے ہم کو امراء القیس بن حجر شاعر کے دو شعروں کے ذریعے زندگی بخش دی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پوچھا : وہ کیسے ؟
انھوں نے کہا : ہم آپ کی طرف آنا چاہتے تھے لیکن ہم راستہ بھٹک گئے۔
اور (ایسے علاقے میں گم ہوگئے کہ وہاں) تین دن بغیر (کسی آس پاس) چشمے کے گذارے۔ پھر ہم کیکر اور ببول کے درختوں کے سائے تلے ٹھہرگئے۔ وہاں ایک آدمی گام باندھے ہوئے سواری پر سوار آیا اور ہم میں سے ایک آدمی نے دوشعر پڑھے :
ولمارات ان الشریعۃ ھمھا۔ وان البیاض من فراصھا دامی۔
اور جب اس نے دیکھا کہ پانی کا گھاٹ ان کا مقصود تلاش ہے اور سواریوں کے پہلوؤں سے خون رسنے لگا ہے، تو یقیناً تو اس چشمے کے پاس پہنچ گیا ہے جو ضارج مقام کے پاس ہے اور کیکر وببول کے درخت اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور اس کی شاخوں اور پتوں نے اس کو چھپایا ہوا ہے۔
تو ہم نے خوب سیر ہو کر اس سے پانی پیا اور راستے کے لیے بطورزادراہ اور پانی بھی ساتھ لے لیا۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ (شاعر) آدمی اس کا ذکر (چرچا) ہوچکا۔ اور روایت کے دوسرے الفاظ ہیں وہ مشہور ہولیا۔ پھر فرمایا : وہ (شاعر) دنیا میں معزز تھا مگر آخرت میں بھولا بھٹکا ہوگا اور بےنام ہوگا اور قیامت کے ساتھ شاعروں
کے آگے آگے ان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے آئے گا اور ان سب کو جہنم میں لے جائے گا۔ (ابن عساکر، ابن النجار)