37884- عن كريب عن مرة البهزي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناواهم وهم كالإناء بين الأكلة حتى يأتي أمر الله وهم كذلك"، فقلنا: يا رسول الله! من هم وأين هم؟ قال: "بأكناف بيت المقدس". قال: وحدثني أن الرملة هي الربوة وذلك أنها تسيل مغربة ومشرقة."كر".
٣٧٨٨٤۔۔۔ کریب روایت کرتے ہیں مرۃ البہزی (رض) سے انھوں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا :
میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، جو بھی ان سے برسر پیکار ہوگا وہ اس پر غالب رہے گی، اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی طرح ہوگی، حتی کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر رہیں گے۔ مرۃ (رض) فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ جماعت کن لوگوں کی ہوگی اور یہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ بیت المقدس کے اطراف واکناف میں ہوں گے۔
راوی کہتے ہیں : مجھے کسی نے بیان کیا ہے کہ رملۃ وہ ربوۃ ہے جو مغرب ومشرق کی طرف جاتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)