37885- "مسند الحكم بن رافع بن سنان" عن عمر بن الحكم بن رافع بن سنان قال: حدثني بعض عمومتي وآبائي أنه كانت عندهم ورقة يتوارثونها في الجاهلية حتى جاء الإسلام، فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة جئنا بها فقرئت عليه فإذا فيها: بسم الله وقوله الحق، وقول الظالمين في تباب1، هذا ذكر أمة تأتي في آخر الزمان يأتزرون على أوساطهم، ويغسلون أطرافهم، ويخوضون البحار إلى أعدائهم، فيهم صلاة لو كانت في قوم نوح ما أهلكوا بالطوفان، ولو كانت في عاد ما أهلكوا بالريح، ولو كانت في ثمود ما أهلكوا بالصيحة، بسم الله وقوله الحق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ضعوها بين ظهري ورق المصحف." أبو نعيم".
٣٧٨٨٥۔۔۔ (مسند الحکم بن رافع بن الحکم بن رافع بن سنان سے مروی ہے کہ مجھے میرے بعض بزرگوں یعنی والد اور چچاؤں نے بیان کیا کہ ان کے پاس ایک ورقہ (کاغذ) تھا، جو ان میں جاہلیت کے زمانہ سے وراثت دروراثت چلا آرہا تھا۔ حتی کہ اسلام کا ظہور ہوگیا۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لائے توہم لوگ وہ ورقہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے۔ وہ آپ کے سامنے پڑھا گیا اس میں لکھا تھا۔
شروع اللہ کے نام سے جس کی بات سچی ہے اور ظالمین کی بات تباہی میں ہے۔ یہ اس امت کا ذکر ہے جو آخری زمانے میں آئے گی، وہ کمر پر ازاریں باندھیں گے، سارے اعضاء غسل میں دھوئیں گے، اپنے دشمنوں سے جنگ کے لیے سمندروں میں بھی گھسیں گے، ان کے اندر ایسی نماز ہوگی کہ اگر وہ قوم نوح میں ہوتی تو وہ پانی کے طوفان سے ہلاک نہ ہوتے اور اگر وہ قوم عاد میں ہوتی تو وہ ہوا سے ہلاک نہ کئے جاتے اور اگر وہ قوم ثمود میں ہوتی تو وہ چیخ سے ہلاک نہ ہوتے، اللہ کے نام سے، جس کا قول حق ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس ورقے کو قرآن شریف کے اوراق کے درمیان میں رکھ دو ۔ (راوہ ابو نعیم)