37922- "مسند عبد الله بن عمر " أتعلم أول زمرة تدخل الجنة من أمتي؟ فقراء المهاجرين يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون فتقول لهم الخزنة: أوقد حوسبتم؟ قالوا بأي شيء نحاسب؟ وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك! فيفتح لهم فيقيلون فيها أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس." ك، هب".
٣٧٩٢٢۔۔۔ (مسند عبداللہ بن عمر) کیا تو جانتا ہے پہلے گروہ کو جو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا ؟ یہ فقراء مہاجرین ہوں گے جو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر آئیں گے اور اس کا دروازہ کھلوائیں گے، جنت کا خازن ان سے پوچھے گا : کیا تمہارا حساب کتاب ہوچکا ہے ؟ تو وہ کہیں گے : ہم سے کس چیز کا حساب ہوگا، ہمیشہ تو ہمارے کاندھوں پر تلوار لٹکی رہی اور اسی حال میں ہم مرگئے۔ چنانچہ ان کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ پس وہ اس میں چالیس سال تک قیلولہ کرتے رہیں گے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے قبل۔ (مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیھقی)