37934- عن الحارث بن زياد الساعدي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق وهو يبايع الناس على الهجرة فظننا أنهم يدعون إلى البيعة فقلت: يا رسول الله! بايع هذا على الهجرة، فقال: "ومن هذا؟ " قلت: هذا ابن عمي حوط بن يزيد - أو: يزيد بن حوط - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا أبايعكم، إن الناس يهاجرون إليكم ولا تهاجرون إليهم، والذي نفسي بيده! لا يحب الأنصار رجل حتى يلقى الله إلا لقي الله وهو يحبه، ولا يبغض الأنصار رجل حتى يلقى الله إلا لقي الله وهو يبغضه". "حم، خ في تاريخه وابن أبي خيثمة وأبو عوانة والبغوي، طب وأبو نعيم".
٣٧٩٣٤۔۔۔ حارث بن زیاد الساعدی (انصاری (رض)) سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے ہجرت (مدینہ) پر بیعت لے رہے تھے۔ ہمیں یہ خیال ہوا کہ آپ لوگ بیعت کے لیے بلا رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے عرض کیا :
یا رسول اللہ ! اس کو بھی ہجرت پر بیعت فرمالیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس کو ؟ میں نے عرض کیا : یہ میرا چچا زاد ہے حوط بن یزید یا یزید بن حوط فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تم سے (ہجرت پر) بیعت نہیں لے سکتا، کیونکہ لوگ تو ہجرت کرکے تمہاری طرف (مدینے) آتے ہیں جب کہ تم ہجرت کرکے ان کے پاس نہیں جاتے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! (تم) انصار سے کوئی شخص محبت نہیں کرتا مگر وہ ضرور اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ پاک اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ اور کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھتا مگر وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ پاک بھی اس سے بغض (نفرت) رکھتے ہوں گے۔ (مسند احمد، التاریخ للبخاری، ابن ابی خیثمہ، ابو عوانۃ، البغوی، الکبیر للطبرانی، ابونعیم)