37935- عن زيد بن ثابت قال: دخل سعد بن عبادة على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ابنه فسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ههنا ههنا" - وأجلسه عن يمينه، وقال: "مرحبا بالأنصار! " وأقام ابنه بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اجلس،" فجلس فقال: "ادن،" فدنا فقبل يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "وأنا من الأنصار وأنا من فراخ الأنصار"، فقال سعد: أكرمك الله كما أكرمتنا! فقال: "إن الله أكرمكم قبل كرامتي، إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض". "كر، وفيه عاصم بن عبد العزيز الأشجعي، قال خط: ليس بالقوي".
٣٧٩٣٥۔۔۔ زید بن ثابت (انصاری (رض)) سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادۃ (انصار کے سردار (رض)) اپنے بیٹے کے ساتھ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
ارشاد فرمایا : یہاں بیٹھو یہاں، اور ان کو اپنی دائیں طرف جگہ عنایت فرمائی اور فرمایا انصار کو مرحبا ہو۔
اور انھوں نے اپنے بیٹے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیٹے کو فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ وہ بیٹھ گیا۔ پھر اس کو فرمایا :
قریب آجا، وہ قریب ہوگیا اور پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
میں بھی انصار میں سے ہوں، اور انصار کے بچوں میں سے ہوں۔ حضرت سعد (رض) نے عرض کیا : اللہ آپ کو عزت بخشے جیسے آپ نے ہم کو عزت بخشی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے عزت دینے سے قبل ہی اللہ نے تم کو عزت سے نواز دیا تھا۔ تم میرے بعد (اپنے آپ کے ساتھ زیادتی اور اوروں کی ) ترجیح دیکھو گے لہٰذا تم صبر کا دامن تھامے رکھنا حتی کہ حوض پر مجھ سے آملو۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت کی سند میں عاصم بن عبدالعزیز اشجعی ہے جس کے متعلق خطیب بغدادی (رح) فرماتے ہیں یہ قوی راوی نہیں ہے۔